کرناٹک واقع حسن ضلع کے کچھ اے ٹی ایم میں نقدی بھرنے والی ایک پرائیویٹ کمپنی نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا عمل انجام دیا ہے۔ معاملہ منی لانڈرنگ کا معلوم پڑتا ہے، جس کی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم غائب ہے، اور اس معاملے میں 2 لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ 18 اور 19 فروری کو کمپنی میں کیے گئے ماہانہ آڈٹ کے دوران بے ضابطگی کا پتہ چلا، جس کے بعد حسن برانگائے پولیس نے ایف آئی آر درج کر معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق ایک پرائیویٹ کمپنی کے ملازمین نندیش بی ایل اور مدھو کمار ایم پی ’اے ٹی ایم‘ میں پیسہ بھرنے کے لیے ذمہ دار تھے۔ ان دونوں پر 3 کروڑ روپے سے زائد کے غبن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے مجموعی طور پر 18 اے ٹی ایم میں پیسے جمع کرنے کا فرضی ریکارڈ تیار کیا، جن میں 11 کینرا بینک اے ٹی ایم، 3 ایس بی آئی اے ٹی ایم اور ایک بینک آف انڈیا اے ٹی ایم شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ان اے ٹی ایم میں پیسہ جمع ہی نہیں کیا گیا۔
سی ایم ایس کی حسن شاخہ کے منیجر راجو نے حسن شہر کے مختلف اے ٹی ایم میں بغیر کوئی پیسہ جمع کیے پیسے نکالنے کے الزام میں حسن برانگائے پولیس اسٹیشن میں ملزمین کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے معاملہ درج کر ملزمین کے خلاف جانچ بھی شروع کر دی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کچھ ماہ قبل اے ٹی ایم میں پیسہ بھرنے والی گاڑی سے تقریباً 7.11 کروڑ روپے کی لوٹ کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اینووا کار میں سوار ایک گروپ نے جئے دیو ڈیری سرکل کے پاس اے ٹی ایم میں پیسہ جمع کرنے جا رہی ایک گاڑی کو روکا، نقدی چھین لی اور فرار ہو گئے۔ اسی طرح جنوری میں ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں کمپنی کے ملازمین نے خود ہی ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کا غلط استعمال کیا، جسے بنگلورو کے کورمنگلا پولیس اسٹیشن کے حلقہ اختیار میں آنے والے اے ٹی ایم میں جمع کیا جانا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































