بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے ہندوستان کے ساتھ رشتوں میں شیرینی گھولنے کے مقصد سے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دہلی واقع بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے 20 فروری کو ہندوستانیوں کے لیے ویزا خدمات پھر سے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محمد یونس کی حکومت نے تقریباً 2 ماہ قبل ویزا خدمات کو معطل کر دیا تھا، جس سے ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں کچھ حد تک تلخی آ گئی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کے لیے سبھی زمروں کے ویزے بحال کر دیے گئے ہیں، جن میں میڈیکل اور سیاحتی ویزے بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں بزنس اور وَرک ویزا کو چھوڑ کر بقیہ ویزوں پر روک لگا دی گئی تھی۔ یونس حکومت کے اس فیصلہ کو پلٹتے ہوئے جمعہ کی صبح سبھی ویزا خدمات بحال کر دی گئیں۔ بی این پی کی قیادت والی حکومت بننے کے 3 دنوں بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رشتوں میں بہتری کا اشارہ ہے۔
بنگلہ دیش کے سلہٹ میں ہندوستان کے سینئر قونصلر افسر انیرودھ داس نے 19 فروری کو بتایا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے بھی سبھی ویزا خدمات پوری طرح بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ’بی ڈی نیوز 24‘ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’میڈیکل اور ڈبل انٹری ویزا حال میں جاری کیے جا رہے ہیں۔ سیاحتی ویزا سمیت دیگر زمروں کے ویزے پھر سے شروع کرنے کے لیے قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات آپسی احترام اور مشترکہ مفادات پر مرکوز ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ طارق رحمن کے وزیر اعظم بننے کے بعد بنگلہ دیش نئے سیاسی دور میں قدم رکھ چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں شدت پسند سیاسی کارکن شریف عثمان بن ہادی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ دسمبر 2025 میں سفارتی کشیدگی کے مدنظر دونوں ممالک کے درمیان قونصلر اور ویزا خدمات روک دی گئی تھیں۔ سنگاپور میں علاج کے دوران ہادی کی موت کی خبر ملنے کے بعد 18 دسمبر کی رات مظاہرین کے ایک گروپ نے چٹگاؤں میں ہندوستانی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا اور پتھر پھینکے تھے۔ اس کے بعد ہندوستان نے وہاں 21 دسمبر سے آئندہ حکم تک دفتری کام کو معطل کر دیا۔



































