
ہردیپ سنگھ نجر، فوٹو بہ شکریہ : ایکس
نئی دہلی: عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے مرڈر کیس میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی کے نزدیک آنے کے ساتھ ہی کینیڈا کی حکومت نے اپنے شواہد کے ایک بڑے حصے کو خفیہ رکھنے کی پہل کی ہے۔
ہندوستان کے ساتھ پہلے ہی کشیدہ دوطرفہ تعلقات کے پس منظر میں کینیڈا کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو منظر عام پر لانے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔
گلوبل نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، کینیڈا کے اٹارنی جنرل کی نمائندگی کر رہے وفاقی وکلا نے دلیل دی ہے کہ بعض شواہد کو منظر عام پر لانا – یا حتیٰ کہ دفاعی فریق کو دستیاب کرانا -بین الاقوامی تعلقات اور قومی سلامتی کے لیے ‘نقصاندہ’ ہوگا۔
یہ درخواست 24 دسمبر 2025 کو فیڈرل کورٹ آف کینیڈا میں کینیڈا ایویڈنس ایکٹ کی دفعہ 38 کے تحت دائر کی گئی۔
کینیڈا میں مقدموں کے دوران قومی سلامتی سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے عدالت سے اجازت طلب کرنا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اکثر ایسا اس وقت ہوتا ہے جب متعلقہ معلومات کسی غیر ملکی ایجنسی نے اس شرط پر دستیاب کرائی ہو کہ اسے عدالت میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا خیال ہے کہ جن معلومات کو محفوظ رکھا جا رہا ہے ، وہ ممکنہ طور پر فائیو آئیز انٹلی جنس اتحاد سے متعلق ہیں- جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
اس سےقبل سامنے آئی جانکاری کے مطابق، ہندوستانی حکام کو مبینہ سازش سے جوڑنے والا ابتدائی اشارہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیوسے ملا تھا، جس کی بعد میں کینیڈین وائر ٹیپ کے ذریعے تصدیق کی گئی۔ وہیں امریکہ میں متوازی ‘مرڈر فار ہائر’ سازش کی تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کی جانب سے انٹرسیپٹ کیے گئے مواصلاتی رابطوں میں کینیڈا میں ممکنہ اہداف کا ذکر پایا گیا تھا۔ اس معاملے میں ہندوستانی شہری نکھل گپتا نے حال ہی میں نیویارک کی عدالت میں ایک ہندوستانی افسر کے ساتھ سازش کرنے کا جرم قبول کیا تھا۔
قومی سلامتی کے استحقاق (نیشنل سکیورٹی پریولیج) کے اصول کے تحت کینیڈین حکومت عدالت میں یہ دلیل دے سکتی ہے کہ خفیہ معلومات جمع کرنے کے طریقے یا انڈر- کورذرائع کی شناخت ظاہر ہونے سے بین الاقوامی شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس استحقاق کے اطلاق کے لیے جج کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
کینیڈین قانون کے مطابق، حکومت حساس معلومات کو روک سکتی ہے، لیکن عدالت کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ‘بے گناہی داؤ پر’ (انوسینس ایٹ اسٹیک)کا اصول برقرار رہے۔ یعنی ایسی معلومات ملزمان کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتیں، اور اگر کوئی مواد ملزم کی بے گناہی ثابت کر سکتا ہو تو اسے دستیاب کرانا لازمی ہوگا۔
اس مقدمے میں ملزمان – کرن براڑ، کمل پریت سنگھ، کرن پریت سنگھ اور امر دیپ سنگھ – کو جون 2023 میں سرے، برٹش کولمبیا واقع ایک گوردوارے کے باہر نجر کو گولی مار کر قتل کرنے کے الزام میں 2024 کے اوائل میں گرفتار کیا گیا تھا۔ معاملہ فی الحال پری- ٹرائل مرحلے میں ہے اور اس سے متعلق اشاعت پر پابندی عائد ہے۔
حالاں کہ، رائل کینیڈین ماؤنیٹڈ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس سازش میں لارنس بشنوئی گینگ اور ہندوستانی سرکاری ایجنٹ ملوث تھے، تاہم مقدمے میں شواہد کا مرحلہ سفارتی طور پر نہایت حساس بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ہندوستانی حکومت مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ اوٹاوا نے ہندوستانی ریاست کی مبینہ شمولیت کے اپنے الزامات میں اب تک کوئی ‘مخصوص اور متعلقہ’ ثبوت دستیاب نہیں کرائے ہیں۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






