سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے، جس میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور 25 اراکین پارلیمنٹ کو گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں غنڈہ صفت ایک شخص خود کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا حامی بتا رہا ہے۔ اس ویڈیو پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے سوال پوچھا ہے کہ ’’کیا اوم برلا کی شہ پر راہل گاندھی جی کو دھمکی دی جا رہی ہے؟ آخر اس غنڈے کی اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ اس نے اوم برلا کا نام لیتے ہوئے دھمکی آمیز ویڈیو بنائی؟‘‘
کانگریس نے ’ایکس‘ پر شیئر اس ویڈیو کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اوم برلا کا لاڈلا بی جے پی لیڈر کھلے عام حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور 25 اراکین پارلیمنٹ کو گھر میں گھس کر گولی مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ نریندر مودی اور ان کی حکومت کی نفرتی سوچ کا نتیجہ ہے۔ سوشل میڈیا پر اس غنڈے کی بہت سی تصویریں اور ویڈیوز وائرل ہیں، جن میں وہ اوم برلا کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’اس معاملہ میں سخت کارروائی ہونی چاہیے اور اس باتا کی جانچ کی جائے کہ کس کے کہنے پر یہ دھمکی دی گئی۔‘‘
اس معاملہ میں کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک شخص بے خوف ہو کر بیٹھا ہے، پیچھے دیوار پر نریندر مودی اور اوم برلا کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ وہ آدمی حزب اختلاف کے قائد اور 25 اراکین پارلیمنٹ کو گولی مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔ اس کے خلاف نہ ایف آئی آر ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’میں اوم برلا سے پوچھنا چاہتی ہوں، یہ شخص خود کو آپ کا حامی بتا رہا ہے۔ کیا آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے؟‘‘ وہ یہ بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ ’’ملک کے وزیر داخلہ کیا کر رہے ہیں؟ آج اقتدار کی خاموشی پر سوال اٹھنا چاہیے۔ جب ملک کے پارلیمانی امور کے وزیر اور وزیر اعظم اناپ شناپ کہتے ہیں، تبھی ایسے لوگوں کی ہمت بڑھتی ہے کہ وہ جمہوری طریقے سے منتخب اراکین پارلیمنٹ کا قتل کرنے کی بات کریں۔‘‘
کانگریس کے سینئر لیڈر اور جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی اس معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کے نظام اور سنگھ پریوار کی جانب سے پیدا کردہ ماحول کو دیکھیے۔ وہ پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کو بولنے تک کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اب سنگھ پریوار کا ایکو سسٹم (نظام) کھلے عام کہہ رہا ہے کہ وہ راہل گاندھی سمیت 25 اراکین پارلیمنٹ کو قتل کر دیں گے۔‘‘ وہ اس بات پر حیرانی ظاہر کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ سراسر انارکی کی مثال ہے۔ مودی حکومت ملک میں انارکی کی فضا پیدا کر رہی ہے۔ مودی حکومت نفرت کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔‘‘ نامہ نگاروں سے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں اپنے قائد حزب اختلاف کی حفاظت کیسے کرنی ہے، اور ہم ان دھمکیوں سے پریشان نہیں ہیں۔ راہل گاندھی بھی اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں، انھیں اپنی جان کا خوف نہیں ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































