’اے آئی پر بڑی بڑی باتیں کرنے والے نریندر مودی خود اے آئی سے تھر تھر کانپتے ہیں‘، کانگریس نے مثالوں کے ساتھ کیا حملہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 19, 2026361 Views


سپریا شرینیت نے کہا کہ کچھ اے آئی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کا حکم بی جے پی حکمراں ریاستی حکومتوں کی پولیس، مثلاً بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیجا۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتی ہوئیں کانگریس ترجمان سپریا شرینیت</p></div><div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتی ہوئیں کانگریس ترجمان سپریا شرینیت</p></div>

i

user

کانگریس نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ڈیلیٹ کی گئی ’اے آئی جنریٹیڈ‘ ویڈیوز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس ترجمان اور سوشل میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیف سپریا شرینیت نے آج اس تعلق سے پریس کانفرنس کر کئی اہم حقائق میڈیا کے سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ دنوں سے ملک میں ’اے آئی‘ یعنی ’مصنوعی ذہانت‘ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کی آرٹیفیشیل انٹلیجنس جذبات کا دم گھونٹنے میں مودی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پہلے تجارتی معاہدہ میں امریکہ کو اپنا سارا ڈاٹا سونپنا، اور پھر ابھی چل رہی اے آئی سمٹ میں بدانتظامی کے درمیان جھوٹ اور چوری کے جو شرمناک انکشافات ہوئے ہیں، انھوں نے ملک کی شبیہ داغدار کر دی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’جو نریندر مودی اے آئی پر بہت بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں اے آئی سے تھر تھر کانپتے ہیں۔ آپ کے سامنے کچھ حقائق رکھ دیتی ہوں، اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے جو باتیں سامنے رکھیں، وہ اس طرح ہیں:

  • گزشتہ 6 ہفتوں میں کانگریس کے ذریعہ اے آئی سے بنائی گئی 9 ویڈیوز اس ملک کے بزدل وزیر اعظم نریندر مودی، ان کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے ڈیلیٹ کروائے ہیں۔

  • میں بالکل واضح کر دوں، ان سبھی ویڈیوز میں قانون کے تحت جو ’اے آئی ڈسکلیمر‘ ہونا چاہیے، وہ ہے۔ پوری ویڈیو کے دوران آپ کو اوپر ’AI Generated Video‘ لکھا دکھائی دے گا، جو واضح کرتا ہے کہ کسی کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ لیکن خود وزیر اعظم مودی اور بی جے پی سچائی سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ان ویڈیوز سے بھی خوفزدہ ہیں۔

  • ان ویڈیوز میں ہم نے وہی دکھایا ہے جو ہم عوامی طور سے سڑک پر اور پارلیمنٹ میں بول رہے ہیں۔

سپریا شرینیت نے ویڈیوز میں موجود مواد کا بھی ذکر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جن ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرایا گیا ہے، اس میں دکھایا گیا ہے کہ:

  • کس طرح ڈرپوک وزیر اعظم مودی نے جنرل نروَنے اور فوج کو ’جو مناسب سمجھو وہی کرو‘ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے منھ موڑ لیا

  • مودی جی نے کس طرح ملک کے مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا

  • کس طرح مودی ایپسٹین کے مشورہ پر امریکی صدر کو خوش کرنے میں مصروف تھے

  • کس طرح مودی نے امریکہ کے اشارے پر روس سے تیل خریدنا بند کیا

  • کس طرح مودی نے ہندوستان کے کسانوں کے حق کی قربانی دے دی

  • کس طرح مودی اڈانی کے اوپر امریکہ میں کستے قانونی شکنجہ سے بوکھلا کر ٹرمپ کے سامنے سر بہ سجود ہیں

  • کس طرح وزیر اعظم 3 خاتون اراکین پارلیمنٹ سے خوف کھا کر ایوان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے

سپریا شرینیت نے ویڈیوز میں موجود مواد کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ ’’ان میں سے ایسی کوئی بھی چیز نہیں ہے جو تصوراتی ہے یا جس کا حقیقت سے واسطہ نہیں ہے۔ یہ سبھی ایشوز وہ ہیں، جس پر اپوزیشن اور پورا ملک سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ وہ ایشوز ہیں جو ملک کی سب سے بڑی پنچایت یعنی ہندوستانی پارلیمنٹ میں گونج رہے ہیں۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ ’’کچھ اے آئی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کا حکم بی جے پی حکمراں ریاستی حکومتوں کی پولیس، مثلاً بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیجا، اور کچھ کو ڈیلیٹ کروانے کا حکم براہ راست ’Reel منتری‘ اشونی ویشنو کی وزارت سے آیا۔ وہی ویشنو جی، جو اے آئی سمٹ کے منتظم ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر اے آئی ویڈیوز ڈیلیٹ کرا رہے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کا یہ معاملہ صرف اے آئی تک ہی محدود نہیں ہے۔ حال کے دنوں میں ہر وہ ویڈیو جو حکومت کی ناکامی کو پیش کرتا ہے، اس کو بھی ڈیلیٹ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں قبل دہلی میں پرانی بسیں نئی بتا کر لانچ کر دی گئیں۔ اس کی قلعی کھولتے ہوئے جس کسی نے بھی ویڈیو پوسٹ کی، دہلی پولیس نے ای میل بھیج کر انھیں جبراً ڈیلیٹ کروایا۔‘‘

کانگریس ترجمان نے بغیر وجہ بتائے ویڈیوز ڈیلیٹ کیے جانے پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کم از کم ہمیں بتائیں کہ ان ویڈیوز میں کیا غیر قانونی تھا، کیا خلاف ورزی ہوئی ہے؟ سوشل میڈیا پلیٹ فرامز کو رازداری اور منمانے آرڈر دے کر مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے احکامات تاناشاہی حکومت جاری کرتی ہیں، جمہوریت میں منتخب حکومتیں نہیں۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’آن لائن سنسرشپ پورٹل ’سہیوگ‘ کے اثرانداز ہونے سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ اس پورٹل میں مختلف وزارتوں کے 30-25 سرکاری ملازمین کو ٹیک ڈاؤن حکم جاری کرنے کا حق ہے، اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو ان پر عمل کرنا ہوگا۔ اب یہ لوگ طے کریں گے کہ ہم آن لائن کیا دیکھ سکیں گے اور کیا نہیں۔‘‘

پریس کانفرنس میں سپریا شرینیت نے ایک حیران کرنے والی جانکاری بھی دی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ حکومت صرف ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے پر نہیں رکتی، یہ بزدل اپنی پولیس سے سوشل میڈیا ٹیم میں کام کرنے والے 22-21 سال کے نوجوانوں کو فون کر کے ڈرانے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘ اس معاملہ میں اپنا مضبوط ارادہ ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’’اگر ای میل بھیجنی ہے، فون کرنا ہے، مقدمات کرنے ہیں تو مجھ پر کیجیے۔ میں سوشل میڈیا کی چیف ہوں۔ لیکن 56 اِنچ کی چھاتی والا تو نوجوانوں اور 20 سال کے بچوں سے لڑ رہا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت تو بزدل ہے ہی، لیکن اس سے زیادہ ڈرپوک تو یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں۔ ہماری آئین نے ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی دی ہے، جن کی خلاف ورزی مین اسٹریم کی میڈیا اور سوشل میڈیا مل کر کر رہی ہیں۔ سرکاری نوٹس ملتے ہی فوراً سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ویڈیو کو ہٹاتے ہیں۔ میٹا، یوٹیوب، ایکس میں تو حکومت کے سامنے خود سپردگی کرنے کی ہوڑ لگی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’گزشتہ کچھ دنوں سے یہ پلیٹ فارمز نئے نئے پینترے آزما کر چھوٹی چھوٹی باتوں، بلاوجہ ان مواد بنانے والوں کو ڈیمونیٹائز کر رہے ہیں، جو حکومت سے سوال پوچھتے ہیں، مودی جی کو آئینہ دکھاتے ہیں، لوگوں کے حقیقی ایشوز کو اٹھاتے ہیں۔ اگر مواد بنانے والوں کے پیسے کا ذریعہ ہی بند ہو جائے گا تو وہ اپنا کام کس طرح کرے گا؟ وہ کیا کمائے گا، کیا کھائے گا؟ مودی جی سوالوں اور سچائی سے اتنا ڈرتے ہیں کہ سچ دکھانے والوں کے پیٹ پر لات مارنے کی سازش بھی رَچ ڈالی۔‘‘

اے آئی مواد کو سیاست میں تنقید کا نیا ذریعہ ٹھہراتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’سیاست میں تنقید کرنے اور جوابدہی یقینی بنانے کے بہت سارے طریقے ہوتے ہیں۔ مثلاً دلائل پیش کرنا، تلخ سوالات کرنا، طنزیہ انداز اختیار کرنا، کارٹون بنانا۔ ٹیکنالوجی کے سبب اب نیا ذریعہ اے آئی ہے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے کہہ سکتی ہوں کہ کانگریس کی بنائی ہوئی کسی بھی اے آئی ویڈیو میں کوئی فحاشت یا بدتمیزی نہیں ہے۔ طنز ہے، تلخ تبصرہ ہے، بے چین کر دینے والے سوالات ہیں۔ لیکن سیاسی اخلاقیات کی کبھی بھی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’اگر حکومت کو اے آئی مواد سے اتنا اعتراض ہے، تو اسکول و کالج میں اے آئی پڑھانا بند کر دے اور سب سے پہلے بی جے پی آئی ٹی سیل کے سستے، بھدے و گھٹیا اے آئی ویڈیوز پر پابندی لگائی جائے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...