
عدالت نے اسکول ریکارڈ کو صرف کاغذی دستاویزات نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ قرار دیا جو ایک بچے کے ساتھ برسوں تک رہتا ہے اور مختلف اداروں میں اس کی شناخت کا تعین کرتا ہے۔ عدالت نے پدرانہ سوچ پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفروضہ کہ شناخت باپ سے آئے گی،کوئی ’’انتظامی اصول‘‘ نہیں بلکہ سماج کی متعصبانہ ذہنیت ہے جسے اب بدلنا چاہئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بچی کانام اور ذات دونوں اس کی درخواست کے مطابق اسکول کے ریکارڈ میں تبدیل کیا جائے۔






