ہائی وے پر نماز کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کی جھوٹی خبر چلانے کے معاملے میں زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 19, 2026361 Views


جموں و کشمیر میں ایک ٹرک ڈرائیور کے ہائی وے پر نماز پڑھنے کے ویڈیو کو تصدیق کے بغیر نشر کرنے کی وجہ سے زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے اسے سنگین کوتاہی مانتے ہوئے سوشل میڈیا مواد کے استعمال سے متعلق سخت رہنما اصول جاری کیے ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ: زی نیوز

نئی دہلی: تقریباً ایک سال پہلے زی نیوز نے یہ الزام لگایا تھا کہ جموں و کشمیر میں ایک شخص نے ہائی وے کے بیچوں بیچ اپنا ٹرک روک کر نماز ادا کی، جس کی وجہ سےٹریفک جام ہو گیا۔ بعد میں واضح ہوا کہ وہ ڈرائیور خود بھی دیگر گاڑیوں کے ساتھ ٹریفک میں پھنسا ہوا تھا۔ اب اس معاملے میں ‘سوشل میڈیا پر دستیاب غیر مصدقہ مواد کے استعمال’ کرنے کے باعث چینل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

منگل (17 فروری) کو جاری آرڈر میں نیوز براڈکاسٹرز اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے کہا کہ زی نیوز نے ضروری احتیاط نہیں برتی، جو ایک ‘واضح اور سنگین کوتاہی’ ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے سوشل میڈیا سے متعلق خبروں کی نشریات کے لیے چھ نئے رہنما اصول بھی جاری کیے ۔ اس میں واضح طور پرکہا گیا ہے کہ صرف یہ کہہ دینا کہ ‘ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی’  کافی نہیں ہے۔

این بی ڈی ایس اے، نیوز براڈکاسٹرز اینڈ ڈیجیٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے رضاکارانہ طور پر بنائے گئے ضابطۂ اخلاق اور نشریاتی معیارات کو نافذ کرنے والی ایک سیلف ریگولیٹری  یعنی خود ضابطہ تنظیم ہے۔ ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق، نیوز اور حالات حاضرہ سے متعلق 125چینل اس کے رکن ہیں۔

یہ آرڈر این بی ڈی ایس اے کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے کے سیکری نے جاری کیا۔ یہ 3 مارچ 2025 کو نشر ہونے والے زی نیوز کے پروگرام کے خلاف درج تین شکایتوں پر شنوائی کے بعد آیا۔ شکایتیں اندر جیت گھورپڑے، اتکرش مشرا اور جمعیۃ علماء ہند کے وکیل سید کعب رشیدی کی جانب سے کی گئی تھیں۔

پروگرام میں ٹرک ڈرائیور کا ایک ویڈیو دکھایا گیاتھا، جس میں وہ اپنی گاڑی کی چھت پر نماز ادا کرتا نظر آ رہا تھا۔ چینل نے الزام لگایا کہ اس نے ٹرک سڑک کے بیچ کھڑا کر دیا،جس کی وجہ سے جام لگ گیا، اور وہ پورے وقت ‘پوری طرح  بے فکر’ بنارہا۔

اینکر نے کہا،’ہائی وے کی دوسری جانب سڑک پوری طرح خالی نظر آ رہی ہے ، کیونکہ اس ڈرائیور کی طرح وہاں کسی نے نماز نہیں پڑھی۔’ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ نماز کا وقت ہونے پر ڈرائیور نے گاڑی کنارے لگانے کے بجائے سڑک کے بیچ میں ہی کھڑی کر دی۔

اینکر نے مزید کہا، ‘زی نیوز اس وائرل ویڈیو کی تصدیق نہیں کرتا، لیکن جس نے بھی اسے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے اس نے ڈرائیور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ضرور کیا ہے۔’

تاہم کچھ دنوں بعد آلٹ نیوز نے ایک زیادہ واضح ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ ڈرائیور خود بھی گاڑیوں کی لمبی قطار میں پھنسا ہوا تھا۔ اس وقت جاری ایڈوائزری میں جموں کے رام بن علاقے میں ایک لین سے ٹریفک چلنے اور پتھر گرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی، جہاں مبینہ طور پر یہ جام لگا تھا۔

شکایت گزار گھورپڑے نے الزام لگایا کہ غیر مصدقہ ویڈیو نشر کر کے اور مسلم ٹرک ڈرائیور کو غلط طور پر قصوروار ٹھہرا کر زی نیوز نے ضابطہ اخلاق اور نشریاتی معیارات کی خلاف ورزی کی ہے۔

شکایتوں کے جواب میں، تحریری وضاحت اور نومبر میں ہوئی شنوائی کے دوران زی نیوز نے کہا کہ اس نے ویڈیو کو غیر مصدقہ بتایا تھا اور اسے حقائق پر مبنی یا مصدقہ مواد طور پر پیش نہیں کیا تھا۔ چینل نے کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی سے انکار کیا۔

لیکن جسٹس سیکری نے اپنے آرڈر میں کہا کہ این بی ڈی ایس اے کی رائے میں سوشل میڈیا پر دستیاب غیر مصدقہ مواد کا استعمال کرنا نشریاتی ادارے کی جانب سے واضح اور سنگین لاپرواہی ہے، جو ضابطہ اخلاق میں شامل صداقت کے اصول کے منافی ہے۔

آرڈرمیں کہا گیا،’خلاف ورزی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے این بی ڈی ایس اے بھاری جرمانہ بھی عائد کر سکتا تھا۔ لیکن چونکہ نشریاتی ادارے نے بعدمیں متنازعہ ویڈیو کو ہٹا دیا، اس لیے اس پر 1,00,000 روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔’

جسٹس سیکری نے یہ بھی کہا کہ آج کل نشریاتی ادارے اور ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم رپورٹنگ میں سوشل میڈیا کا خوب استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، اس سے غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن کے اراکین کے لیے چھ رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔

ان رہنما اصولوں میں واضح کیا گیا ہے کہ؛

سوشل میڈیا سے حاصل کردہ کسی بھی معلومات، تصویر یا ویڈیو کو نشر یا شائع کرنے سے پہلے اس کی صداقت کی تصدیق لازمی ہے۔

جہاں تک ممکن ہو، ایسے مواد کی تصدیق گراؤنڈ رپورٹنگ اور دیگر باوثوق ذرائع، جیسے عینی شاہدین، پولیس یا سرکاری حکام سے کی جانی چاہیے۔

تصویروں اور ویڈیو کی فیکٹ چیکنگ کر کے یہ یقینی بنایا جائے کہ ان میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ، تحریف یا اے آئی سے تیار کردہ مواد شامل نہ ہو۔

کسی بھی مواد کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ چاہے وہ اصل ہی کیوں نہ ہو، غلط سیاق و سباق میں دکھائے جانے سے وہ گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

فوجی کارروائی، مسلح تنازعہ، داخلی بدامنی، فرقہ وارانہ تشدد، عوامی بے نظمی، جرائم یا اسی طرح کے حساس حالات سے متعلق خبروں میں سوشل میڈیا مواد استعمال کرتے وقت اسے ‘مفاد عامہ’ اور’صداقت’ کے معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

صرف یہ کہہ دینا کہ تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، ضابطہ اخلاق کے تحت ذمہ داری سے بچنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

اس طرح این بی ڈی ایس اے نے واضح کر دیا ہے کہ سوشل میڈیا مواد کے استعمال کے دوران نیوز اداروں کو پوری ذمہ داری اور احتیاط برتنی ہوگی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...