
ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ 17 فروری کو جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے “اچھی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب مزید مسودے تیار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم منگل کو ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے میزائل داغے۔ اس اقدام سے یہ پیغام گیا کہ اگر دباؤ ڈالا گیا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا جو دنیا کو تیل سپلائی کرتی ہے۔ دریں اثنا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران ابھی تک امریکہ کی ’’سرخ لکیروں‘‘ کو پوری طرح سے قبول نہیں کر رہا ہے۔





