’انوویشن‘ کے نام پر دھوکہ، چینی ’روبو ڈاگ‘ معاملہ پر گلگوٹیا یونیورسٹی نے مانگی معافی

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 18, 2026363 Views


یونیورسٹی نے کہا کہ ’اے آئی سمٹ میں ہونے والی غلطی کے لیے دل سے معافی مانگتے ہیں۔ پویلین میں تعینات ہمارے نمائندوں میں سے ایک کو درست معلومات نہیں تھی اور انہیں پروڈکٹ کے تکنیکی ماخذ کا علم نہیں تھا۔‘

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

i

user

’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں پیش کیے گئے چینی ’روبو ڈاگ‘ کے متعلق تنازعہ کے بعد گلگوٹیا یونیورسٹی کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے معافی مانگی گئی ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی پر الزام ہے کہ سمٹ میں ان کی جانب سے دکھایا گیا ’روبو ڈاگ‘ چین سے منگوایا گیا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ان کے پویلین پر موجود ایک نمائندے نے غلطی سے کیمرے پر غلط معلومات پوسٹ کر دیں، جس سے لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہو گئی۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے مطابق متعلقہ نمائندے کو پروڈکٹ کی تکنیکی باریکیوں کا صحیح علم نہیں تھا۔ جوش میں آ کر اس نے پروڈکٹ کی ٹیکنالوجی کے بارے میں غلط حقائق بیان کر دیے۔

اب یونیورسٹی یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اس شخص کو میڈیا سے بات کرنے کی آفیشل اجازت نہیں تھی۔ ان کا جان بوجھ کر کسی قسم کا غلط دعویٰ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، مزید یہ کہ پیدا ہونے والی غلط فہمی پر افسوس ہے اور منتظمین کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بات کہی ہے۔ مجموعی طور پر یونیورسٹی نے اس تنازعہ کا سارا الزام اپنی پروفیسر نیہا سنگھ پر ڈال دیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اے آئی سمٹ میں ہونے والی غلطی کے لیے تہہ دل سے معافی مانگتے ہیں۔ پویلین میں تعینات ہمارے نمائندوں میں سے ایک کو درست معلومات نہیں تھی اور انہیں پروڈکٹ کے تکنیکی ماخذ کا علم نہیں تھا۔ ان کے پاس پریس سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا لیکن کیمرے پر آنے کے جوش میں انہوں نے غلط معلومات دے دیں۔ ہم نے منتظمین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے پویلین خالی کر دیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ای آئی سمٹ کے ایکسپو ایریا میں گلگوٹیا یونیورسٹی کے اسٹال پر ’روبو ڈاگ‘ نے سب کی توجہ حاصل کی تھی۔ ایک ویڈیو میں پروفیسر نیہا سنگھ نے اسے ’اورین‘ کے نام سے پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسی لینس کا پروڈکٹ بتایا، لیکن معاملہ اس وقت متنازع ہوگیا جب سوشل میڈیا پر اسے چینی کمپنی ’یونی ٹری‘ کی ’گو2‘ ماڈل سے ملتا ہوا بتایا گیا۔ یہ کمرشل طور پر دستیاب ہے، جس کی قیمت تقریباً 2.5 لاکھ روپے ہے، اسے ’میک اِن انڈیا‘ تھیم والی سمٹ میں غیر ملکی پروڈکٹ بتانے کا الزام عائد ہوا۔ راہل گاندھی نے بھی اس حوالے سے ’ایکس‘پر پوسٹ کرتے ہوئے اسے محض ’تشہیر‘ قرار دیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...