آسام میں رواں سال ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل سابق کانگریس ریاستی صدر بھوپین بورا نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے متعلق آسام کانگریس کے صدر گورو گوگوئی نے کہا کہ اس کا کوئی بھی اثر انتخابی امکانات پر نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی گورو گوگوئی نے کہا کہ ہیمنت بسوا سرما آسام کے جناح ہیں۔ اس سے قبل آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ بھوپین بورا 22 فروری کو بی جے پی میں شامل ہوں گے۔
گورو گوگوئی نے بدھ (18 فروری) کو کہا کہ حکمراں جماعت بی جے پی میں شامل ہونے والے لوگ اپنے سیاسی سفر میں اہمیت کھو چکے ہیں اور بھوپین بورا کا بھی یہی حال ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم سربانند سونووال اور کئی دوسرے لوگوں کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ اے جی پی پارٹی (سونووال کی پچھلی پارٹی) ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخاب میں مقابلہ کانگریس اور پرانی کانگریس کے درمیان ہوگا۔
گورو گوگوئی کے مطابق بی جے پی پرانے کانگریسی لیڈران سے بھری پڑی ہے جو ریاست میں کانگریس کے 15 سالہ دور اقتدارمیں سب سے زیادہ بدعنوان تھے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے بھوپین بورا کو کانگریس کا آخری ہندو لیڈر کہنے پر گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ وہ (ہیمنت بسوا سرما) آسام کے ’جناح‘ ہیں اور انہیں لیڈران کو ہندو ہونے کا سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کر دینا چاہیے۔ کانگریس ایک سمندر کی مانند ہے اور ہم سب اس میں پانی کے قطرے ہیں۔ کانگریس ہمارے آباؤ اجداد کے وجود سے بھی پہلے سے موجود ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































