راجستھان کے جئے پور واقع جگد گرو راماننداچاریہ سنسکرت یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ جاری ایک عجیب و غریب حکم نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ حکم کے مطابق یونیورسٹی کے اساتذہ بغیر کُل گرو یا رجسٹرار کی اجازت کے کسی دیگر ملازم سے بات نہیں کر سکیں گے۔ اس طرح کے حکم کی شدید تنقید ہو گئی ہے۔
جاری حکم کے مطابق یونیورسٹی کے تدریسی ملازمین، جن میں پروفیسر اور لیکچرر شامل ہیں، وہ کسی دیگر غیر تدریسی ملازمین سے بغیر اجازت بات چیت نہیں کر پائیں گے۔ کسی کو بھی مسئلہ یا گفتگو کرنی ہے، تو پہلے کُل گرو یا رجسٹرار سے اجازت لینی ہوگی۔ یونیورسٹی کے ذریعہ جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو بھون کے کسی ہال میں غیر تدریسی ملازمین سے اساتذہ بات چیت نہیں کریں گے۔ کوئی بھی بات یا مشورہ براہ راست کُل گرو یا رجسٹرار کے سامنے رکھیں۔ بغیر پیشگی اجازت کے دیگر اشخاص سے بات چیت پر سختی کی جائے گی۔
یونیورسٹی کا یہ حکم جیسے ہی سامنے آیا، اس کی شدید مذمت شروع ہو گئی۔ یونیورسٹی کے اندر بھی اس طرح کے حکم پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ کچھ نے اسے بے حد غیر ضروری بتایا۔ کچھ لوگوں نے اسے اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیا۔ فی الحال مینجمنٹ کی طرف سے اس بارے میں کوئی صفائی یا جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ریاست میں اساتذہ سے متعلق پہلے سے ہی کئی حکم تنازعے میں ہیں۔ مثلاً کتا پکڑنا، ڈاکٹرس کو کتے بھگانے یا پوجا پاٹھ جیسے حکم۔ بہرحال، تعلیمی دنیا سے لے کر پوری ریاست میں اب یہ موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں سوشل میڈیا پر بھی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ یونیورسٹی نے یہ حکم کیوں جاری کیا، اس سلسلے میں کچھ بھی سامنے نہیں آ سکا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































