
یہ عرضی جئیتا دیب سرکار کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس دیویندر کمار اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنا تفصیلی جواب عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔
اس سے قبل 11 فروری کو ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بھی عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب مانگا تھا۔ گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قومی راجدھانی میں محض 15 دن کے اندر 800 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 191 نابالغ اور 616 بالغ افراد شامل تھے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر تشویش پھیل گئی تھی۔






