ٹی-20 عالمی کپ کے ایک انتہائی اہم مقابلے میں آج سری لنکا نے آسٹریلیا کو شکست دے کر اس کے لیے سپر-8 کی راہیں انتہائی دشوار کر دی ہیں۔ اس جیت سے سری لنکا تو سپر-8 میں پہنچ گئی، ساتھ ہی زمبابوے کے لیے بھی سپر-8 میں جگہ بنانے کا راستہ آسان بنا دیا ہے۔ ایسا اس لیے، کیونکہ زمبابوے نے 2 میچوں میں 2 فتح کے ساتھ 4 پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور اسے سری لنکا کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ سے میچ کھیلنا باقی ہے۔ ایک فتح اسے سپر-8 میں پہنچا دے گی۔ دوسری طرف آسٹریلیا کے 3 میچوں میں محض 2 پوائنٹس ہیں۔ آسٹریلیائی ٹیم سپر-8 میں تبھی پہنچ سکتی ہے جب زمبابوے اپنے دونوں میچ ہار جائے اور آسٹریلیا آخری میچ میں عمان کو ہرانے کے ساتھ ساتھ اپنے بہتر رَن ریٹ کا بھی خیال رکھے۔
آج پلیکیلے میں کھیلے گئے سری لنکا اور آسٹریلیا کے میچ پر ہر کسی کی نظر تھی۔ میزبان سری لنکا تو پہلے ہی لگاتار 2 فتح کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں پہلے مقام پر تھی، لیکن آسٹریلیا کے لیے یہ مقابلہ انتہائی اہم تھا۔ اپنے پچھلے میچ میں زمبابوے کے ہاتھوں ملی حیرت انگیز شکست کے سبب آسٹریلیا کو ہر حال میں یہاں جیت درج کرنے کی ضرورت تھی۔ آج آسٹریلیائی ٹیم میں کپتان مشیل مارش کی واپسی بھی ہوئی تھی، لیکن ٹیم کی قسمت نہیں بدل سکی۔ سری لنکا کے سلامی بلے باز پتھم نسانکا کی دھماکہ خیز سنچری نے آسٹریلیا کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ نسانکا اس عالمی کپ میں سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بنے اور 182 رنوں کے ہدف کو سری لنکا نے محض 18 اوورس میں 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
آج مارش کی واپسی کا اثر آسٹریلیا کی بلے بازی پر نظر آیا، لیکن اہم مواقع پر وکٹ گرنے سے ٹیم کو نقصان پہنچا۔ آسٹریلیائی کپتان نے آج آتے ہی طوفانی شروعات دلائی، جس کی کمی گزشتہ 2 میچوں میں دیکھنے کو ملی تھی۔ لگاتار خراب فارم سے پریشان اسٹار سلامی بلے باز ٹریوس ہیڈ کا بلا بھی آج تیزی سے رن بٹور رہا تھا۔ دونوں نے تیزی کے ساتھ اپنی اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ ان دونوں نے 8.3 اوورس میں ہی 104 رن جوڑ دیے، لیکن پہلا وکٹ گرتے ہی آسٹریلیائی اننگ لڑکھڑا گئی۔ اگلے 4 اوورس میں ٹیم کے 4 وکٹ گر گئے۔
جوش انگلس اور گلین میکسویل جب اس اننگ کو سنبھال رہے تھے، تبھی نسانکا نے ایک حیرت انگیز کیچ لے کر اس شراکت داری کو توڑ دیا۔ اس کے بعد آسٹریلیائی ٹیم نے 21 رن کے اندر ہی بچے ہوئے 5 وکٹ گنوا دیے اور پوری ٹیم محض 181 رن بنا سکی۔ سری لنکا کے اسپنر دشان ہیمنتا نے 3 وکٹ اور دشمنت چمیرا نے 2 وکٹ لیے۔
دوسری طرف سری لنکا کی ابتدا خراب رہی اور دوسرے اوور میں ہی سلامی بلے باز کسل پریرا آؤٹ ہو گئے۔ حالانکہ اس کا اثر میزبان ٹیم پر دیکھنے کو نہیں ملا۔ نسانکا نے کسل مینڈس کے ساتھ مل کر تیزی سے رن بٹورنا شروع کیا۔ دونوں ہی بلے باز آسٹریلیا کے لیے سر درد ثابت ہوئے۔ اس دوران مینڈس نے لگاتار تیسری نصف سنچری مکمل کی، جبکہ نسانکا نے بھی 50 رنوں کو عبور کیا۔ 13ویں اوور میں کسل مینڈس کو آؤٹ کر مارکس اسٹوئنس نے اس شراکت داری کو توڑا اور واپسی کی امید پیدا کی۔ لیکن نسانکا آگے بھی پوری طرح سے گیندبازوں پر حاوی دکھائی دیے۔ انھوں نے آسٹریلیائی گیندبازوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ آخر کار 18ویں اوور میں نسانکا نے ایک رن لے کر محض 52 گیندوں میں اس ٹورنامنٹ کی پہلی سنچری مکمل کی اور ٹیم کو 8 وکٹوں سے یادگار جیت دلائی۔ پون رتنایکے نے ناٹ آؤٹ 28 رنوں کا تعاون پیش کیا۔
آسٹریلیا اب بھی صرف 2 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے مقام پر ہے۔ سری لنکا اگلے راؤنڈ میں پہنچ چکی ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر موجود زمبابوے کے پاس آسٹریلیا کو باہر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ منگل کے روز زمبابوے کا سامنا آئرلینڈ سے ہوگا۔ اگر سکندر رضا کی ٹیم یہ میچ جیت جاتی ہے تو وہ بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے گی۔ اس نتیجہ کے ساتھ ہی آسٹریلیا کی امیدیں بھی ختم ہو جائیں گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































