لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں ’جَن سنسد‘ میں گگ ورکرس کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے گگ ورکرس کے سامنے موجود مسائل اور اس کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس کی کچھ تصویریں اور ویڈیو کانگریس نے آج ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’آج ملک میں گگ ورکرس بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو مستحکم آمدنی ہے، نہ سماجی تحفظ۔‘‘ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’راہل گاندھی جی نے گگ ورکرس کے وفد کو بھروسہ دلایا کہ کانگریس پارٹی حق کی اس لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم انھیں حق دلا کر رہیں گے۔‘‘
ایک دیگر ایکس پوسٹ میں کانگریس لکھتی ہے کہ ’’بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد میں گگ ورکرس کا ’وَرک لائف بیلنس‘ پوری طرح بگڑ چکا ہے۔ ہم کانگریس حکمراں ریاستوں میں ایک قانونی ڈھانچہ بنا رہے ہیں، تاکہ گگ ورکرس کو سماجی سیکورٹی، کم از کم آمدنی اور مساوات کا حق مل سکے۔‘‘ ساتھ ہی اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’گگ ورکرس کی یہ لڑائی صرف روزگار کی نہیں، وقار، سیکورٹی اور سماجی انصاف کی ہے، جس میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
گگ ورکرس کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے فیس بک ہینڈل سے بھی شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کچھ دن قبل ’جَن سنسد‘ میں گگ ورکرس کے نمائندہ وفد سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت سے صاف ہوا کہ گگ اکونومی کے فائدے مزدوروں تک پہنچانے کے لیے مضبوط اور ذمہ دار سرکاری کارروائی ضروری ہے۔‘‘ گگ ورکرس کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آج گگ ورکرس کے پاس نہ مستحکم آمدنی ہے، نہ سماجی تحفظ، نہ میڈیکل/انشورنس جیسی بنیادی سہولیات۔ ورک-لائف بیلنس ٹوٹا ہوا ہے اور بنیادی انسانی وقار سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں گگ ورکرس سے متعلق کچھ انتہائی اہم مسائل کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ خاتون گگ ورکرس دوہرے استحصال کا شکار ہیں۔ وہ معاشی معاشی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ وقار اور سیکورٹی کے بحران کا بھی سامنا کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ ’’تعاون پیش کرنے کی جگہ خاتون گگ ورکرس سے محنت کا وقار چھینا جا رہا ہے۔‘‘ دلت اور قبائلی طبقہ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اس سسٹم میں طبقہ اور ذات پر مبنی تفریق گہرائی سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ گگ ورک سیکٹر میں بڑی تعداد میں دلت و قبائلی طبقات کے مزدور ہیں، جن کے ساتھ استحصال مزید بڑھ جاتا ہے۔‘‘
حکمراں بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’ریاستوں اور مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کی حکومتیں اس ناانصافی پر آنکھیں موندے ہیں۔ نہ مضبوط قانون ہے، نہ سماجی سیکورٹی، نہ ہی گگ کمپنیوں کی جوابدہی۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’کانگریس کی حکومتیں حقوق پر مبنی قوانین پر کام کر رہی ہیں، تاکہ گگ ورکرس کو سماجی تحفظ، کم از کم آمدنی اور مساوات کا حق مل سکے۔ ہم اپنی ریاستوں میں ایک ماڈل قانونی ڈھانچہ بنا رہے ہیں، جسے ملک بھر میں نافذ کیا جا سکے۔‘‘ آخر میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’گگ ورکرس کی لڑائی صرف روزگار کی نہیں، یہ وقار کے ساتھ ساتھ تحفظ اور سماجی انصاف کی بھی لڑائی ہے۔‘‘





































