’سمجھوتوں کے ڈھانچہ‘ (فریم ورک) کے بارے میں تو سنا تھا۔ ’عبوری سمجھوتوں‘ کے بارے میں بھی سنا تھا۔ لیکن ’عبوری سمجھوتے کا ڈھانچہ‘ آخر کیا ہوتا ہے؟ ماہر معاشیات رتن رائے نے یہ تلخ سوال اٹھا کر ہند-امریکہ مشترکہ بیان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف پانے والے اور ہندوستانی حکومت کی جانب سے خیر مقدم کیے گئے ’تمام سمجھوتوں کی ماں‘ کی بے ضابطگیوں کو اجاگر کر دیا۔ اعلان، وقت اور زبان سابق مالی سکریٹری سبھاش چندر گرگ کی اس بات کو درست ثابت کرتی ہے کہ ہندوستان نے خود سپردگی کر دی تھی۔
مشترکہ بیان جاری ہونے سے 4 دن قبل، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم طویل عرصہ سے اٹکے تجارتی سمجھوتہ کے سلسلے میں اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ ہندوستان روسی تیل خریدنا بند کر دے گا۔ ہندوستان امریکی مصنوعات کو بڑی مقدار میں خریدے گا اور امریکہ و وینزویلا سے زیادہ درآمد کرے گا۔ بدلے میں امریکہ ریسیپروکل ٹیرف کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرے گا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے ٹیرف میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا جس میں امریکی صدر کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لیے ’لامحدود امکانات‘ والی ہے۔
جوش و خروش 4 دن تک جاری رہا۔ 6 فروری کو ایک صفحے کا مشترکہ بیان (یعنی ’عبوری سمجھوتے کا ڈھانچہ‘) واشنگٹن نے اس وقت جاری کیا جب ہندوستان سو رہا تھا۔ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے بیان کو ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 4.20 بجے جاری کیا۔ بہت سی تفصیلات نہ ہونے کے باوجود، اس میں اتنا ضرور تھا کہ تجارتی ماہرین چونک اٹھے۔ حتمی تجارتی سمجھوتہ ایک قانونی دستاویز ہوگا جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس ایک صفحے کی دستاویز میں صاف تھا کہ ہندوستان روسی تیل کی خرید بند کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے تیل کی درآمدات کی امریکی نگرانی قبول کی ہے اور حیرت انگیز طور پر بیشتر امریکی مصنوعات پر درآمدی محصول صفر کرنے پر بھی متفق ہوا ہے۔ گرگ نے ’دکن ہیرالڈ‘ میں لکھا ہے کہ ’’یہ تباہ کن سمجھوتہ آنے والی دہائیوں تک ہندوستان کو نقصان پہنچائے گا اور ستائے گا۔‘‘
بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کار اور گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹیو، نئی دہلی کے بانی اجے شریواستو سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکہ سے آخر ہندوستان درآمد کیا کرے گا؟ وہ ان صنعتی اور صارف اشیا کی بہت کم پیداوار کرتا ہے جن کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان کی زبان تشویش ناک ہے۔ جہاں ہندوستان نے غیر ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے کا وعدہ کیا ہے، وہیں امریکہ نے ہندوستانی اشیا کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے اپنے قوانین اور ضابطوں میں نرمی دکھانے کی کوئی پابندی ظاہر نہیں کی۔
مشترکہ بیان میں عدم مساوات اتنی واضح تھی کہ مصنف اور مبصر برہما چیلانی نے کہا کہ ’’ہندوستان کی پابندیاں فوری، مقداری اور باقاعدہ نگرانی کے تابع ہیں، جبکہ امریکی ’رعایتیں‘ مشروط، پلٹنے کے قابل یا صرف اصلاحی نوعیت کی ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندہ اور وائٹ ہاؤس ہندوستان کو ایک ’بازار‘ کے طور پر دیکھتے ہیں جسے کھولا جانا ہے، نہ کہ ایک اسٹریٹیجک شراکت دار کے طور پر۔‘‘
عام لوگوں نے بھی اس بیان کو دباؤ کے نتیجے کے طور پر دیکھا۔ ’ڈاؤن ٹو ارتھ‘ میں شائع سورت کے ایک کارٹون میں ایک کسان پوچھتا ہے کہ اس تجارتی سمجھوتے کو’تاریخی‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟ ایک مزدور جواب دیتا ہے ’کیونکہ اس سمجھوتے کے بعد ہندوستانی کھیتی تاریخ بن جائے گی۔‘ ایک طنز نگار نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’اس تاریخی سمجھوتے کے مطابق، میں ایک خاص میخانہ سے پیوں گا اور کسی اور سے نہیں۔ بدلے میں وہ مجھے مہنگے مشروبات بیچتا رہے گا۔‘‘
اس معاملہ میں ایک ماہر معیشت و مبصر نے کہا کہ ’’امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ وہی کیا ہے جو ہندوستانی حکومت اپنے شہریوں کے ساتھ کرنے کی عادی ہے۔ ہمارے حقوق چھین لیے اور سزا طے ہو گئی، پھر انہیں بڑی عنایت کے ساتھ کچھ کم کر دیا گیا۔‘‘ شریواستو کا استدلال ہے کہ ہندوستانی حکومت شاید یہ امید کر رہی ہے کہ یوکرین کی جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور روس پر عائد پابندیاں ہٹ جائیں گی۔ یا امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ کے ’ریسیپروکل ٹیرف‘ کو غیر قانونی قرار دے دے گی۔ یا پھر نومبر میں امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر اپنی حیثیت کھو بیٹھیں گے۔ ورنہ ہندوستان کی جانب سے ایسی توہین آمیز شرائط قبول کرنے کی وضاحت مشکل ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے مرکزی بجٹ پر بحث کے دوران پوچھا کہ ’’کیا آپ کو اپنے کیے پر شرم نہیں آتی؟‘‘
مرکزی وزیر برائے کامرس پیوش گوئل کی جانب سے یہ کہنے کے چند ہی گھنٹوں بعد، کہ 18 فیصد امریکی ٹیرف سے ہندوستان کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک پر برتری ملے گی، امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی سمجھوتہ کر کے اس مبینہ برتری کو ختم کر دیا۔ بنگلہ دیش کپاس نہیں اُگاتا، لیکن ٹیکسٹائل کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ اب وہ امریکہ سے کپاس اور مصنوعی ریشہ درآمد کرے گا۔ ان سے تیار ہونے والے ملبوسات پر امریکہ صفر ٹیرف عائد کرے گا۔ ایک جھٹکے میں ہندوستان کا ایک کپاس بازار اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کو امریکی بازار میں اپنی حصہ داری کھونے کا بھی خدشہ ہے۔
ہندوستان نے ’تمام امریکی صنعتی اشیا پر ٹیرف ختم یا کم کرنے اور ڈی ڈی جی ایس، مویشی چارہ کے لیے سرخ جوار، میوہ جات اور پھل، سویا بین تیل، وائن اور اسپرٹس سمیت امریکی زرعی و غذائی مصنوعات پر محصول کم کرنے‘ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ساتھ ہی طے شدہ شعبوں میں ترجیح دینے کے علاوہ وہ ڈیجیٹل تجارت کے قواعد کی سمت میں کام کرنے پر بھی متفق ہو گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی درج ہے کہ ’’ہندوستان 5 برسوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کے امریکی سامان، جس میں توانائی مصنوعات، ہوائی جہاز اور ان کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات اور کوکنگ کوئلہ وغیرہ شامل ہیں، خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘
شریواستو کو بیان کے وہ حصے اور زیادہ پریشان کرتے ہیں جو مبہم اور تشریح کے لیے کھلے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’دونوں فریق معاشی سیکورٹی اور سپلائی چین کے لچک پر ہم آہنگی برقرار رکھیں گے۔‘‘ اس میں ہم آہنگی کا کیا مطلب ہے؟ ’دی وائر‘ کے لیے کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ-ملیشیا سمجھوتے میں اس شق سے فکرمند ہیں جس میں تیسرے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بھی امریکی نظر ثانی کی گنجائش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حتمی سمجھوتے میں ہندوستانی مذاکرات کاروں کو ایسے سخت ضوابط سے بچنا چاہیے۔
ہندوستانی کسانوں کے لیے یہ سمجھوتہ تاریخ کو دہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً 6 سال قبل مرکزی حکومت نے 3 زرعی قوانین نافذ کیے تھے، جنہیں کسانوں نے بازار کی قوتوں کے حوالے کیے جانے کے طور پر دیکھا تھا۔ ہندوستانی کاشتکاری ایک بار پھر وجودی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ زیادہ تر چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو دنیا کے سب سے زیادہ سبسڈی یافتہ پیداکاروں سے مقابلہ کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں اوسط رقبہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ہیکٹیئر ہے، جبکہ امریکہ میں اوسط فارم سائز 170 ہیکٹیئر سے زیادہ ہے۔ امریکی زراعت وسیع پیمانے، میکانائزیشن، جدید ذخیرہ، بیمہ کوریج اور براہِ راست مالی مدد پر مبنی ہے۔
امریکی زرعی اعداد و شمار کے مطابق وہاں کے کسانوں کو بھاری سرکاری تعاون حاصل ہے۔ براہ راست اور بالواسطہ سبسڈی، فصل بیمہ، آفات کی ادائیگیاں اور وفاقی زرعی پروگرام مل کر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فی کسان اوسط تعاون ہر سال ہزاروں ڈالر تک پہنچتا ہے۔ یہ سمجھوتہ سویا بین تیل، ڈی ڈی جی ایس اور مویشی چارے کے لیے سرخ جوار جیسی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی یا خاتمے کی اجازت دیتا ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ اور راجستھان کے سویا بین کسان پہلے ہی بحران میں ہیں۔ بازار قیمت اکثر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) سے 30-20 فیصد نیچے رہتی ہے۔ سستی درآمدات، خاص طور پر ایسے ملک سے جہاں 90 فیصد سے زیادہ سویا بین پیداوار جینیاتی طور پر ترمیم شدہ ہے، گھریلو قیمتوں کو مزید دباؤ میں لا سکتی ہیں۔
اسی طرح مویشی چارے کے لیے سرخ جوار اور مکئی کی درآمد سے ہندوستانی مکئی اور سویا بین کھلی کی طلب کم ہو سکتی ہے۔ ڈی ڈی جی ایس کی درآمد کو کوٹہ نظام کے تحت ’محدود‘ بتایا جا رہا ہے، لیکن ایک بار راستہ کھلنے کے بعد طویل مدتی سمت کو پلٹنا مشکل ہوتا ہے۔
ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے سیب پیدا کرنے والے علاقوں میں تشویش سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ حکومت نے سیب پر 80 روپے فی کلوگرام کی کم از کم درآمدی قیمت (ایم آئی پی) اور 25 فیصد ٹیرف مقرر کیا ہے۔ دوسری طرف بڑے خریدار، جیسے اڈانی گروپ نے ہماچل کے کسانوں سے گزشتہ سال 85 روپے فی کلو کے حساب سے سیب خریدا تھا۔ ذخیرہ، گریڈنگ، پیکجنگ اور نقل و حمل پر تقریباً 35 روپے فی کلو جوڑنے سے لاگت 120 روپے فی کلو سے زیادہ ہو جاتی ہے، جبکہ اب درآمد شدہ سیب 100 روپے فی کلو پر ہی دستیاب ہوں گے۔
’پروگریسیو گروورز ایسوسی ایشن‘ کے لوکیندر سنگھ بشٹ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے مفادات گروی رکھ دیے گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے نمائندہ سے کہا کہ فوری اثر پریمیم معیار کے ہندوستانی سیب پر پڑے گا اور آہستہ آہستہ قیمتوں کا دباؤ پورے بازار میں پھیل جائے گا۔ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’ہم امریکہ، یورپ یا نیوزی لینڈ کے کسانوں سے مقابلہ کر سکتے ہیں، لیکن وہاں کی آب و ہوا سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘‘
ہندوستانی زراعت مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً 18-16 فیصد حصہ دیتی ہے، لیکن تقریباً 45 فیصد آبادی کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ زراعت سے متعلق تجارتی فیصلے صرف معیشت ہی نہیں، سماجی و سیاسی حالات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ آب و ہوا کی غیر یقینی، بڑھتی لاگت، ٹھہری ہوئی حقیقی آمدنی اور قرض کے بوجھ سے دو چار ہندوستانی زراعت کے لیے، وسیع گھریلو اصلاحات، آبپاشی، ذخیرہ، خرید، پروسیسنگ اور کسانی آمدنی کی معاونت کے بغیر ہی بازار کو سبسڈی یافتہ درآمدات کے لیے کھولنا دیہی بحران کو گہرا کر سکتا ہے۔
ہندوستانی تجارتی مذاکرات کار بڑے ہندوستانی بازار کے لیے اہم رعایتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے امریکی دباؤ کے باعث نگرانی قبول کی، خودمختاری سے دستبردار ہوئے اور ہندوستانی زرعی بازار کو کھول دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































