قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 16, 2026361 Views


سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بندوں کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ  دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔

گزشتہ7نومبر 2025 کو نئی دہلی میں قومی گیت ’وندے ماترم‘کے 150 سال مکمل ہونے پر منعقد تقریب میں وزیراعظم۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

مودی حکومت قومی ترانے کو دوسرے درجے پر لانا چاہتی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ اب اسے گانے سے پہلے ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو مکمل چھ بندوں کے ساتھ گانا ہوگا۔ آخر کیوں؟

فخر ہندوستان اور نوبیل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیق ’جن گن من‘سے آخر یہ کیسا خوف ہےکہ وزارت داخلہ کے ایک خفیہ آرڈر کے ذریعے ’ضابطوں‘  میں تبدیلی کرتے  ہوئےاس کی اہمیت کو کم کیا جا رہاہے؟

یہ دعویٰ کرناکہ قومی گیت’ وندے ماترم‘کا مرتبہ بڑھایا جا رہا ہے، دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا ایک طریقہ ہے۔ ’وندے ماترم‘کے ابتدائی دو بند انتہائی  خوبصورت اور مترنم ہیں اور پہلے سے ہی صد گونہ احترام کے ساتھ گائے جاتے ہیں۔ دہائیوں سے چلی آ رہی روایت کے مطابق، جب پارلیامنٹ کا اجلاس ختم ہوا، تو اختتام کی علامت کے طور پر قومی ترانہ ’جن گن من‘نہیں بلکہ قومی گیت  کی دھن بجائی گئی۔

سال 2024کے لوک سبھا انتخابات، جو ایک انتہائی بنیادی مسئلے یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آئین کے خلاف ہونے اور اسے تبدیل کرنے کی نیت کے خدشے پر لڑے گئے تھے، ان پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعدد ارکان پارلیامنٹ اور وزراء نے بھی’ 400 پار‘کا نعرہ یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ وہ اس  کی طاقت سےآئین میں ترمیم کو ممکن بنا سکیں۔ ارکان پارلیامنٹ، وزرائے اعلیٰ اور وزراء نے بی جے پی کی 400 سے زائد نشستیں جیتنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ وہ ریزرویشن ختم کر سکیں؛ مدھیہ پردیش کے دھار میں تو خود نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’مودی کو چار سو نشستیں اس لیے چاہیے کہ کانگریس ایودھیا کے رام مندر پر بابری تالا نہ لگا دے‘یا جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے اپنے مبینہ منصوبے میں کامیاب نہ ہو  جائے۔

کیا اس بات میں کوئی شبہ ہونا چاہیے کہ آئین میں تبدیلی سے بھی آگے جا کر، بی جے پی ہندوستان کے خلاف اب  ڈنکے کی چوٹ پرجس بڑی لڑائی کو لڑ رہی ہے، وہ اُن آئینی علامتوں کے خلاف ہے جو بے حد اہم ہیں، کیونکہ وہ اس بات کی علامت  ہیں کہ یہ ملک کس کے لیےہے  اور یہ کس کا ہے— یہ سب کا ہے۔

یہ خدشہ کہ بی جے پی واقعی آئین میں ترمیم کر دے گی، بڑی حد تک اس کی شکست کا سبب بنا، اگرچہ وہ کسی نہ کسی طرح جوڑ توڑ کر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے اکثریت سے پیچھے رہنے کے چند ہی دن بعد مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا تھا کہ’ 400 پار‘کے نعرے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں آئین میں تبدیلی اور ریزرویشن ختم کیے جانے کے حوالے سے  شدید خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

بی جے پی نے ’نئی تعلیمی پالیسی 2020 ‘ کے تحت ہندی کو مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، اور اس کے بعد قوانین کے نام کرن، ملک بھر میں جاری ہونے والی عوامی اطلاعات اور سائن بورڈ میں بھی ہندی ہی استعمال کی جا رہی ہے۔ لیکن قومی ترانے کا ہندی یا سنسکرت میں نہ ہونا ان کے لیے دشواری پیدا کرتا ہے، کیونکہ یہ بنگلہ میں ہے۔ یہ بات یقیناً بی جے پی کو پریشان کرتی ہوگی، خصوصی طور پر آج کے حالات میں، جب ملک سے ’دراندازوں‘کو نکالنے والی بیان بازی اور ’غیر قانونی مہاجرین‘سے ملک کو نجات دلانے کی اپیل کی جا رہی ہے، اور نشانے پر بنگالی بولنے والے  ہی ہیں۔

ایسے میں قومی ترانے کو براہ راست ہٹانا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ایک ایسے دوسرے نغمے (وندے ماترم) کو ترجیح دینا، جس کے تیسرے بند کے بعد کے حوالے ہندوستان کے ’مسلمانوں سے لڑنے‘کی بات کرتے ہیں، ان کے لیے ایک آئیڈیل متبادل ہیں۔ گیت کے متنازعہ بندوں کو شامل کر کے قومی ترانے سے پہلے’ہندو بمقابلہ مسلمان ‘کی دھن چھیڑنا فی الحال ان کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہے۔

’جن گن من‘کی تخلیق ایک ایسے معروف’انٹرنیشنلسٹ‘نے کی تھی جو 1930 کی دہائی کے نازی ازم اور اطالوی فاشزم جیسے تنگ نظر اور متعصب یا اخراجی قوم پرستی سے اپنی واضح نفرت کا اظہار کر چکے تھے۔ انہی نظریات نے ہندوتوا کے حامیوں کو متاثرکیا تھا اور خود آر ایس ایس کے بانیوں- ایم ایس گولوالکر اور ہیڈگیوار کے لفظوں میں، یہ سنگھ کی تشکیل کے لیے گہری تحریک تھے۔ قومی ترانے کو اس کے بلند مقام سے ہٹا پانا سنگھ کو قومی تحریک سے وابستہ ایک اور زندہ اصول- ٹیگور کے فکر و فلسفے- کو مکمل طور پر بربرباد کرنے میں مدد دے گا۔

ٹیگور کا ایک اور نغمہ ’آمار سونار بانگلہ‘بنگلہ دیش کا قومی ترانہ ہے، اور یہ ہندوستان کو اپنے مشرقی پڑوسی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قومی ترانے کی اہمیت کم کرنا جنوبی ایشیا کے اس رشتے کو توڑنے کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔ ’وندے ماترم‘کو ترجیح دینا جنوبی ایشیائی تعلقات کو ’ہندوتوا کی طاقت‘کے طور پر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ کیا اس نوٹیفکیشن کے وقت کے پس پردہ یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے؟ (اگرچہ وزارت داخلہ نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔)

’وندے ماترم‘کے تئیں احترام میں اضافے کا جو مہین پردہ ڈالا جا رہا ہے، وہ دراصل انتہائی کمزور ہے۔ اس کے پس پردہ بنیادی خیال اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور یہ دکھانا ہے کہ ایک اقلیتی حکومت بھی ہندوستان کے تانے بانے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا چاہتی ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو آر ایس ایس کم و بیش ہماری تمام قومی علامتوں کے ساتھ مضطرب رہا ہے۔ ناگپور  واقع سنگھ کے ہیڈکوارٹر پر پہلی بار قومی پرچم 2002 میں پھہرایا گیا تھا۔ قومی ترانے کا کسی کے خلاف ’معاندانہ اور متعصب نہ ہونا‘اور ’مشترکہ و مثبت قوم پرستی‘کے جذبے سے سرشار ہونا، ہندوتوا کی تنگ نظری کے خلاف ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’وی دی پیپل آف انڈیا‘میں ٹی ایم کرشنا نے ان تمام باتوں کو اجاگر کیا ہے کہ کیسے ہمارے ہر قومی نشان کی پیدائش اس قومی تحریک میں ہوئی تھی، جس میں آر ایس ایس کی کوئی شمولیت نہیں تھی۔ ’آر ایس ایس دو قومی نظریے‘کو تسلیم کرتا تھا، جو مسلمانوں کے لیے پاکستان کا مطالبے کرنے والی مسلم لیگ کا ہی  عکس تھا -ہندوؤں کے لیے الگ قوم کا مطالبہ۔ یہ قومی نشان انہیں ان کے اپنے تاریک ماضی کی یاد دلاتے ہیں، اور ساتھ ہی اس ’مشترکہ ہندوستان‘کی حقیقت بھی بیان کرتے ہیں، جسے آر ایس ایس مسترد کرتے ہوئےختم کرنا چاہتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اب قومی ترانے کی توہین کی باری ہے، اور وہ بھی قومی گیت کے متروکہ  بندوں کے تئیں’زیادہ احترام‘دکھانے کے بہانے۔

شاید یہی اس کے خلاف کھڑے ہونے کا سب سے مناسب وقت ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...