ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) انفیکشن ایک سنگین عالمی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔ ایچ آئی وی انفیکشن کی وجہ سے ایڈز یعنی ’ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنسی سنڈروم‘ کا خطرہ ہوتا ہے۔ 2024 کے اختتام تک دنیا بھر میں تقریباً 40.8 ملین (4 کروڑ سے زائد) لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ جی رہے تھے۔ رواں سال 13 لاکھ نئے معاملے بھی سامنے آئے جبکہ 6.30 لاکھ افراد اس انفیکشن کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے گئے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کے پروگراموں کے لیے غیر ملکی امداد روکنے کے امریکی فیصلے سے ایچ آئی وی کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 2029 تک ایڈز سے متعلق 40 لاکھ سے زائد اموات اور ایچ آئی وی انفیکشن کی 60 لاکھ سے زائد نئے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایچ آئی وی-ایڈز کو ایک بڑے بحران کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر میزورم سے سامنے آلی معلومات مزید خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔
میزورم کے وزیر صحت لالرین پوئی نے ریاست میں ایچ آئی وی کے بڑھتے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ میزورم میں ایچ آئی وے کے معاملے قومی اوسط سے 13 گنا زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ ایچ آئی وی کی قومی شرح (نیشنل پریویلنس ریٹ) 0.2 فیصد ہے، میزورم میں یہ بڑھ کر 2.74 فیصد ہو گئی ہے۔ پریویلنس کسی خاص وقت پر کسی مخصوص آبادی میں بیماری کے موجودہ معاملوں (پرانے اور نئے دونوں) کی مجموعی تعداد کی پیمائش کرتی ہے۔
میزورم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت لالرین پوئی نے کہا کہ یہ میزو معاشرے کے لیے شرم کی بات ہے۔ ریاست میں ایچ آئی وی انفیکشن کے زیادہ تر معاملے غیر محفوظ جنسی تعلقات کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تمام معاملات میں سے 70 فیصد ہیں، جسے احتیاطی تدابیر اختیار کر کے آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے معاملات نہ صرف صحت کے لیے ایک سنگین بحران ہیں بلکہ میزو معاشرے کی اخلاقی اور مذہبی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ میزورم کے مستقبل کو بچانے کے لیے ہمارے نوجوانوں کو بیدار اور محتاط رہنا ہوگا۔ کنڈوم کا استعمال اس جنسی بیماری کو روکنے کا سب سے محفوظ طریقہ ہے۔ انہوں نے ریاست میں کنڈوم کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے لو بریگیڈ 2.0 مہم کا بھی ذکر کیا۔
ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق سماجی بدنامی اور اس پر بات چیت کے حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی شرم کی وجہ سے یہ بیماری طبی خدمات کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال رہتا ہے کہ خواتین یا مردوں میں سے کسے ایچ آئی وی انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟ اس بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین اس انفیکشن اور ایڈز کے مرض کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ 2022 میں اس وائرس سے متاثرہ 39 ملین افراد میں سے 53 فیصد خواتین تھیں۔ حالانکہ یہ رجحانات علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ’سب صحارا افریقہ‘ کے باہر زیادہ تر علاقوں میں سامنے آنے والے نئے معاملوں میں 70 فیصد سے زیادہ مرد ہوتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ بھی رہتا ہے کہ کیا یہ بیماری لا علاج ہے؟ کچھ دہائیاں قبل تک ایڈز کو ایک لا علاج بیماری سمجھا جاتا تھا، تاہم سائنسی تحقیق اور مؤثر ادویات نے اس کے علاج کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر ایچ آئی وی انفیکشن کی روک تھام کے لیے بھی وسیع پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس انفیکشن کے پھیلاؤ کی رفتار کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































