کون ہے لیسلی گراف؟ جس کا نام ’ایپسٹین فائلز‘ میں جیفری ایپسٹین کے بعد سب سے زیادہ 1.5 لاکھ مرتبہ آیا

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 15, 2026362 Views


گراف نے فروری 2001 میں نیویارک میں واقع ایپسٹین آفس میں کام شروع کیا تھا۔ اس نے مانسٹر جاب ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات ڈالنے کے بعد یہ ملازمت حاصل کی تھی، انٹرویو ایپسٹین اور گھسلین میکسویل نے لیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>جیفری ایپسٹین، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @epsteinsintern</p></div><div class="paragraphs"><p>جیفری ایپسٹین، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @epsteinsintern</p></div>

i

user

امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیو کینان کی رہنے والی لیسلی گراف حال ہی میں دوبارہ سرخیوں میں آ گئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) کی جانب سے جاری کردہ غیر سینسر شدہ ’ایپسٹین فائلز‘ میں اس کا نام ڈیڑھ لاکھ سے زائد مرتبہ درج ہے۔ ان دستاویزات میں جیفری ایپسٹین کے بعد سب سے زیادہ بار لیا گیا نام لیسلی گراف کا ہے۔

لیسلی گراف نے فروری 2001 میں نیویارک میں واقع ایپسٹین آفس میں کام شروع کیا تھا۔ اس نے ’مانسٹر جاب‘ ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات ڈالنے کے بعد یہ ملازمت حاصل کی تھی۔ اس کا انٹرویو ایپسٹین اور گھسلین میکسویل نے لیا تھا، اس سے قبل لیسلی گراف ایونٹ پلانر کے طور پر کام کرتی تھی۔ وہ تقریباً 20 سال تک ایپسٹین کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

واضح رہے کہ 2001 سے لے کر 2019 میں نیویارک کی جیل میں ایپسٹین کی موت تک لیسلی گراف اس کے معاملات کا اہم حصہ تھی۔ ایپسٹین پر سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزمات تھے۔ گراف اس کے شیڈول، میٹنگوں اور سفروں کا مکمل انتظام سنبھالتی تھیں۔ اگر کسی کو ایپسٹین سے رابطہ کرنا ہوتا اس کے پرائیویٹ طیارہ میں سفر کرنا ہوتا یا اپنے بچے کو کالج میں داخل کرانے میں مدد کی ضرورت ہوتی تو انہیں گراف سے ہی بات کرنی پڑتی تھی۔

لیسلی گراف ایپسٹین کے ذاتی اور پیشہ ورانہ کیلنڈر سنبھالتی تھی اور ووڈی ایلن، اسٹیو بینن اور پرنس اینڈریو جیسی شخصیات کے رابطے میں رہتی تھی۔ ایک وفاقی وکیل نے ریکارڈ میں لکھا کہ ’’وہ ایپسٹین کی پرائیویٹ سکریٹری تھی۔ گراف ملازمین اور متاثرین کے سفری انتظامات سنبھالتی تھی، اس لیے اس کا نام فائلوں میں بار بار آتا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ لیسلی گراف کے خلاف کئی سول مقدمات بھی دائر کیے گئے۔ بعض الزامات میں کہا گیا کہ اس نے ’مساج‘ کے نام پر ملاقاتیں طے کیں اور متاثرین کے سفری انتظامات کیے۔ حالانکہ یہ مقدمے بعد میں خارج کر دیے گئے یا واپس لے لیے گئے۔ کئی معاملات میں متاثرین نے عدالت کے باہر سمجھوتے کر لیے۔

ایپسٹین اپنے معاونین (اسسٹنٹس) کو ’میرے ذہن کی توسیع‘ کہتا تھا اور انہیں سالانہ 2 لاکھ ڈالر کی تنخواہ دیتا تھا۔ 58 سالہ گراف گزشتہ 10 سالوں سے نیو کینان میں 4.2 ملین ڈالر کے گھر کی مالکہ ہے۔ جب وہ ماں بننے کے بعد نوکری چھوڑنے کا سوچ رہی تھی تب ایپسٹین نے اس کے لیے فل ٹائم چائلڈ کیئر اور مرسڈیز-بینز کار دینے کی پیشکش کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...