کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے 29 جنوری کو الیکشن کمیشن کی توجہ بی جے پی کی جانب سے ’فارم 7 کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال‘ کی طرف مبذول کرائی، جس کا مقصد اپوزیشن کی حمایت کرنے والے ’مشکوک‘ ووٹرس کو ووٹر فہرست سے ہٹانا تھا۔ اپنے خط میں وینوگوپال نے اسے وسیع پیمانے پر اور منظم غلط استعمال قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی نے خاص طور پر انتخابی ریاستوں میں اپنے کارکنوں کو بڑی تعداد میں اس کام پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکزی دھوکہ دہی کا ایک اہم عنصر یہ یقینی بنانا ہے کہ جائز ووٹرس کو اعتراضات کے بارے میں مطلع کرنے والے نوٹس ان تک کبھی پہنچیں ہی نہیں۔
اتر پردیش، گجرات، راجستھان، آسام، کیرالہ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ سے موصولہ رپورٹس میں بھی ایسا ہی دیکھنے کو ملا۔ فارم 7 تھوک میں چھپے ہوئے دکھائی دیے ہیں اور کچھ قابل ذکر مماثلتیں بھی۔ مثلاً 1. حذف کیے جانے والے نام پہلے سے چھپے ہوئے ہیں (جو ووٹر ڈاٹا بیس تک رسائی کے ساتھ بڑے پیمانے پر کی گئی کارروائی کا اشارہ دیتے ہیں) اور 2. اعتراض کرنے والے درخواست گزاروں کے نام غائب ہیں، لیکن فارم کے نچلے حصے میں دستخط موجود ہیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے 2023 میں جب فارم 7 سے متعلق قواعد میں خاموشی سے تبدیلی کی، کسی کا اس پر دھیان نہیں گیا۔ فارم 7 کے ذریعے کوئی ووٹر، ووٹر فہرست میں کسی دوسرے شخص کے نام کو چیلنج کر سکتا ہے اور نام حذف کروانے کی درخواست کر سکتا ہے۔ پہلے، فارم 7 جمع کرنے کا یہ حق صرف پڑوسی یا ایک ہی پولنگ مرکز پر رجسٹرڈ ووٹر کو تھا۔ لیکن نئے قاعدے کے مطابق، اب ایک ہی اسمبلی حلقے کا کوئی بھی ووٹر ایسا کر سکتا ہے۔ ایک اور بڑی تبدیلی یہ کہ اب درخواست گزار لامحدود تعداد میں درخواستیں جمع کر سکتا ہے۔
اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر کے سرکاری ایکس ہینڈل (@ceoup) پر 11 فروری کو پوسٹ کیے گئے ایک اپڈیٹ کے مطابق اتر پردیش میں فارم 7 کی 1.1 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ خود الیکشن کمیشن نے اتر پردیش یا دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں جہاں اس مرحلے میں ایس آئی آر کرائے جا رہے ہیں، ان کے بارے میں ایسا کوئی اعداد و شمار نہ تو ایکس پر جاری کیا ہے اور نہ ہی اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، پیش کیے گئے فارم 7 کے حوالے سے تمام ریاستوں میں ایک تشویشناک مماثلت ہے۔ حذف کیے جانے والے ووٹرس کے نام، پتے اور ای پی آئی سی نمبر فارم پر پہلے سے مطبوعہ ہیں۔ اس نمائندے نے جن بھی بوتھ سطحی افسران (بی ایل او) سے رابطہ کیا، تمام معاملات میں اعتراض کرنے والے یعنی درخواست گزار کا نام، جو فارم میں سب سے اوپر دکھائی دیتا ہے، خالی ملا۔ لازمی نہ ہونے کے باوجود ای پی آئی سی نمبر بھی ہاتھ سے لکھا ہوا نہیں بلکہ فارموں پر مطبوعہ ہے، جو ای سی آئی کے ڈاٹا بیس تک رسائی سے متعلق کسی عمل کا اشارہ دیتا ہے۔
امیٹھی کے جگدیش پور میں تعمیراتی سامان کے سپلائر شرافت حسین بتاتے ہیں کہ ان کے پورے خاندان کے 19 ارکان کے نام ایس آئی آر کی مسودہ لسٹ میں تھے۔ بی ایل او امر بہادر نے جب انہیں بتایا کہ 16 نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، تو وہ حیران رہ گئے۔ سماجوادی پارٹی نے فتح پور ضلع میں بی جے پی منڈل صدر ساوتری دیوی پر 72 اعتراضات درج کرانے کا الزام لگایا۔ نمائندہ نے ساوتری دیوی سے رابطے کی کوشش کی لیکن کوشش ناکام رہی۔
الیکشن کمیشن کے 2023 کا ضابطہ نامہ بھی، جس میں فارم 7 کے ترمیم شدہ قواعد شامل ہیں، تھوک کے حساب سے فارم 7 درخواستیں جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بوتھ سطحی ایجنٹ (بی ایل اے) بھی ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 10 فارم ہی جمع کر سکتا ہے۔ یہاں تک انتظام ہے کہ اگر کوئی بی ایل اے رول کی ترمیم کے دوران 30 سے زیادہ درخواستیں جمع کرتا ہے، تو ای آر او اور اے ای آر او کو تمام درخواستوں کی انفرادی طور پر تصدیق کرنی ہوگی۔
گجرات کے سومناتھ اسمبلی حلقہ میں ’نیوز لانڈری‘ کی ایک جانچ میں سامنے آیا کہ جنوری 2026 میں 269 اعتراض کنندگان نے 15,663 ووٹرس کے نام حذف کرنے کے لیے پہلے سے بھرے ہوئے فارم تھوک میں جمع کیے تھے۔ ووٹرس کی تفصیل انگریزی میں تھی، جبکہ اعتراض کنندگان کی تفصیل گجراتی میں ہاتھ سے لکھی گئی تھی۔ اعتراض کرنے والے 269 افراد میں سے ہر ایک نے فارم 7 کے 50 یا اس سے زیادہ درخواستیں جمع کی تھیں۔ ان میں سومناتھ بی جے پی مہیلا ونگ کی صدر منجولابین سُیانی اور ویراول و پاٹن قصبوں کے 29 بی جے پی کونسلر شامل تھے۔ کم از کم 6 افراد نے انکار کیا کہ فارم پر دستخط انہوں نے کیے تھے۔
فروری 2026 میں ’کوئنٹ‘ کی ایک جانچ میں انکشاف ہوا کہ راجستھان کے الور ضلع میں مسلم ووٹرس کے نام حذف کرنے کے لیے ہزاروں فارم 7 جمع کیے جانے کے ایک ماہ بعد بھی ایسی کوئی جانچ نہیں ہوئی کہ یہ فارم کہاں سے چھپے، کس نے انہیں بھرا و دستخط کیے اور کیا دستخط مستند تھے؟ الیکشن کمیشن کو غلط معلومات دینا عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت قید اور جرمانے کا سبب بن سکتا ہے۔ کمیشن نے اگر اس خصوصی مہم کے دوران ایسا کرنے پر کسی کے خلاف مقدمہ چلایا ہے، تو یہ ایک ’سب کو معلوم راز‘ ہے۔
فارم 7 کے غلط استعمال کی خبریں سامنے آنے کے باوجود، اتر پردیش میں ووٹر فہرست کے مسودے پر اعتراض درج کرانے کی آخری تاریخ 6 مارچ تک بڑھا دی گئی ہے۔ امیٹھی کے جگدیش پور اسمبلی حلقہ میں مبینہ طور پر مبصر رام کمار کی جانب سے بی ایل او کے درمیان سینکڑوں فارم تقسیم کیے جانے کی خبر ہے۔ پولنگ افسر امر بہادر کو بوتھ نمبر 126 پر 167 ووٹرس (تمام مسلم) کے نام حذف کرنے کے لیے 126 فارم موصول ہوئے۔ حلقہ میں 8 پولنگ مراکز (122 سے 129) کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالنے والے رام کمار کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہ فارم تحصیل کے الیکشن دفتر انچارج تیج بہادر نے دیے تھے۔
درجنوں ایسے بھرے ہوئے فارموں کی تصاویر موجود ہیں، جو جمع کیے جانے سے پہلے لی گئی تھیں۔ ان تمام فارموں پر اعتراض کنندگان کے دستخط تو ہیں، لیکن ان کے نام یا دیگر لازمی تفصیل (پتہ، رشتہ دار کا نام، موبائل نمبر) نہیں ہیں۔ تاہم ووٹر کی تفصیل بڑے حروف میں ٹائپ یا مطبوعہ ہے۔ یہ تمام مسلم نام ہیں اور مسافر خانہ تحصیل کے برسنڈا پوسٹ آفس کے رہائشی ہیں۔ برسنڈا گاؤں کی پردھان سنجیدہ بانو نے ان 4 دیہی عوام سے پوچھ گچھ کی جن کے نام ووٹرس کو حذف کرنے کی کوشش معاملہ میں سامنے آئے تھے۔ ان میں سے ایک پون کمار نے کئی فارموں پر دستخط کرنے کی بات قبول کی، لیکن دیگر 3 نے اپنی شمولیت سے انکار کیا۔ بی جے پی کارکن پون نے یہ بھی مانا کہ چونکہ فارم زیادہ تھے، اس لیے کچھ پر اس نے اپنی بیٹی سے دستخط کروائے تھے۔
سوشل میڈیا پر بھی ایسی کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کی ہے جس میں سنت کبیر نگر ضلع کے ایک پارٹی لیڈر فون پر کسی سے بات کر رہے ہیں، جو کہتا ہے کہ اسے لکشمی شنکر شکلا نے 126 فارم دیے تھے، اور جو انہیں ایم ایل اے انل تیواری سے ملے تھے۔ سدھارتھ نگر ضلع میں ایک بی ایل او پجاری پرساد یادو نے مانا کہ دھرمیندر موریہ ان کے پاس نام حذف کرنے کے 86 فارم لے کر آئے تھے اور انہیں یہ فارم جمع کرانے کے لیے تحصیل دفتر سے ملے تھے۔ یادو نے تمام ووٹرس کو حقیقی اور موجود پایا، جس کا ذکر وہ اپنی رپورٹ میں کرنے والے تھے۔
اٹاوہ کے ایک پرائمری اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر اور بی ایل او کے طور پر کام کرنے والے اشونی کمار نے بتایا کہ جب انھوں نے اپنے فون سے ان فارموں کی تصاویر لینی چاہیں، جنہیں دھرو کٹھیریا اور ادے پرتاپ ان سے قبول کروانا چاہتے تھے، تو دونوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ امیٹھی کی بی ایل او سبھدرا موریہ نے بتایا کہ ان کے ذریعہ مسلم ووٹرس کے نام حذف کرنے سے انکار کرنے پر ان کے شوہر کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی گئی۔
’نیوز لانڈری‘ نے سابق الیکشن کمشنرز سے اس بارے میں ان کا رد عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ اس پر اشوک لواسا کا سوال تھا کہ ’’فارم 7 بھلا پہلے سے کیسے بھرا جا سکتا ہے؟‘‘ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ناراضگی بھرے لہجے میں کہا کہ ’’پورے ملک میں یہی ہو رہا ہے… ہم جمہوریت کے زوال کے دہانے پر ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































