کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی ملازم کی جانب سے دیا گیا استعفیٰ آجر کو ملازمت کے معاہدے میں درج شرائط کے تحت قبول کرنا چاہیے اور ایسا کرنے سے انکار کرنا بندھوا مزدوری کے مترادف ہوگا۔ عدالت نے پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ (پی ایس یو) کے ایک کمپنی سکریٹری کو راحت دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ دراصل کمپنی سکریٹری کو استعفیٰ دینے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ جسٹس این ناگریش نے کہا کہ ’’اگر نوٹس کی مدت یا ملازمت کے معاہدے میں درج دیگر شرائط کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے، تو آجر استعفیٰ مسترد نہیں کر سکتا ہے۔‘‘
جسٹس این ناگریش نے کہا کہ ’’اگر سنگین بدعنوانی کے سلسلے میں تادیبی کارروائی تجویز کی گئی ہو یا ادارے کو مالی نقصان پہنچانے کے معاملے میں کارروائی کی جا رہی ہو، تو ایسی صورتحال مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’کسی بھی دوسری صورت میں اگر آجر کسی ملازم کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ آئین ہند کی دفعہ 23 کے تحت ممنوعہ بندھوا مزدوری کے مترادف ہوگا۔‘‘
واضح رہے کہ عدالت کا یہ حکم کمپنی سکریٹری کی جانب سے دائر کردہ ایک عرضی پر آیا ہے، جس میں انہوں نے پبلک سیکٹر کمپنی کی طرف سے جاری کردہ وجہ بتاؤ نوٹس اور میموز کو چیلنج کیا تھا، جن میں انہیں استعفیٰ دینے کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ (پی ایس یو) نے ان کا استعفیٰ مسترد کر دیا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔
پی ایس یو کی مالی حالت کی وجہ سے ان کی خدمات ختم نہیں کی جا سکتی تھیں، اسی لیے اس نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پی ایس یو کی کارروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’مالی مشکلات یا ہنگامی حالات کسی کمپنی سکریٹری کو اس کی مرضی کے خلاف اور اس کی رضامندی کے بغیر کام کرنے پر مجبور کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ ان حالات میں عرضی گزار (کمپنی سکریٹری) کے خلاف مجوزہ تادیبی کارروائی کو مدعا علیہان (پبلک سیکٹر کمپنی) کی جانب سے عرضی گزار کے ملازمت سے استعفیٰ دینے کے حق کی خلاف ورزی کی کوشش کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ (پی ایس یو) نے اکتوبر 2022 سے عرضی گزار کو تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی ہے۔
عدالت نے اس بات پر غور کیا کہ عرضی گزار نے 2020 میں اپنے والد کی وفات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ عرضی گزار کی والدہ کئی برسوں سے اعصابی اور دماغی امراض میں مبتلا تھیں۔ عدالت نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر عرضی گزار کے پاس دوسری نوکری تلاش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ عدالت نے پی ایس یو کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کا استعفیٰ قبول کرے، انہیں جلد از جلد اور کسی بھی صورت میں 2 ماہ کی مدت کے اندر ملازمت سے فارغ کرے اور انہیں تنخواہ کے بقایا جات اور دیگر مراعات ادا کرے، جن کے وہ قانونی طور پر حقدار ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































