
السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر
پانچ سال… یہ کوئی ہندسہ نہیں تھا، بلکہ عبدالمنان کی کوٹھڑی کی دیواروں پر جمی ہوئی وہ کائی تھی جو اَب اس کی سانسوں میں بھی بس گئی تھی۔
شروع شروع میں، جب وہ یہاں آیا تھا، تو ہر پیشی ایک امید ہوتی تھی۔ وہ اپنی قمیص کی شکنیں درست کرتا، وکیل کے چہرے پر کسی اشارے کو تلاش کرتا اور جیل واپسی پر ساتھیوں کو بتاتا کہ ’شاید اگلی بار…‘۔
لیکن اب، تاریخ کا آنا اس کے لیے ایسے ہی تھا جیسے ہسپتال کے کسی وارڈ میں ڈِرپ کے قطرے کا گرنا۔
ایک بے جان اور تھکا دینے والا تسلسل۔
جیل کی بیرک میں عبدالمنان کے لیے دو طرح کی دنیائیں تھیں۔ ایک وہ چھ سات لڑکے، جو اسی کے ساتھ ’دیش دروہ‘ کے لیبل تلے آئے تھے۔ ان کے درمیان گفتگو اب ختم ہو چکی تھی۔ وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں بھی اب نہیں جھانکتے تھے کیونکہ وہاں انھیں اپنا ہی مسخ شدہ عکس نظر آتا تھا۔
دوسری طرف وہ قیدی تھے، جو اس سرکار ی راشٹرواد‘ کا حصہ تھے جہاں عبدالمنان اور اس کے جیسے لوگ اس مٹی کے دشمن قرار دیے جا چکے تھے۔
’اوئے پی ایچ ڈی! آج پھر تاریخ ملی یا فیصلہ ہو گیا؟‘
بیرک کے کونے میں بیٹھا ہوا جگدیش، جو چوری کے جرم میں اندر تھا لیکن جس کا سینہ ’راشٹرواد‘ کے فخر سے ہمیشہ چوڑا رہتا تھا، قہقہہ لگا کر بولا۔ ’تم جیسے پڑھے لکھے لوگ ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہو۔ سرکار نے تم جیسے پھلوں کو سڑانے کے لیے ہی اس ٹوکری میں رکھا ہوا ہے۔ ‘
عبدالمنان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنے سیاہ کمبل پر پڑے ایک باریک تنکے کو اٹھایا۔ اسے یاد آیا کہ پانچ سال پہلے جب وہ’ پی ایچ ڈی‘ کا مقالہ لکھ رہا تھا، تو اس کا موضوع ’مزاحمت کی زبان‘ تھا۔
آج اسے احساس ہوا کہ اصل مزاحمت ’بولنے‘ میں نہیں، بلکہ اس زہرکو خاموشی سے پی جانے میں ہے جو آپ کو ہر روز پلائی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ سفاک وہ لمحہ تھا جب پچھلے مہینے اس کے دو ساتھیوں، عدیل اور ریحان کو ضمانت مل گئی۔
پانچ سال کی رفاقت، ایک ہی تھالی میں کھانا اور ایک ہی خلا کو تکنے کے بعد، جب وہ اپنی پوٹلیاں سمیٹ کر بیرک سے باہر نکل رہے تھے، تو عبدالمنان کو لگا کہ اس کے اپنے جسم کا کوئی حصہ کٹ کر الگ ہو رہا ہے۔
’بھائی، گھبرانا مت، ہم باہر جا کر تمھارے لیے کچھ کریں گے، ہم لوگوں کو حقیقت بتائیں گے …‘ریحان نے گلے ملتے ہوئے کہا تھا۔
اس کی آواز میں وہ جوش تھا جو جیل کے گیٹ سے باہر قدم رکھتے ہی ہوا ہو جاتا ہے۔
عبدالمنان نے اسے دیکھا اور بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ الوداع کہا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر کے مورچے، وہ ٹوئٹر ٹرینڈز اور وہ اخباری بیانات اس لوہے کے گیٹ کے سامنے ردّی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ۔
جب وہ چلے گئے، تو بیرک میں چھانے والی خاموشی ان کی موجودگی کے احساس سے زیادہ بوجھل تھی۔
اس رات عبدالمنان نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ اب صرف ایک قیدی نہیں، بلکہ ایک ’عبرت‘ بنا دیا گیا ہے جسے ریاست نے دوسرے نوجوانوں کو ڈرانے کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔
دو بار اسے ’پے رول‘ ملی تھی۔ بیس بیس دن کی وہ ’ادھوری آزادی‘،جو قید سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ جب وہ گھر پہنچا، تو اسے اپنا ہی کمرہ اجنبی لگا۔
اس کی کتابوں پر گرد کی اتنی دبیز تہہ تھی کہ اسے اپنا نام بھی دھندلا نظر آیا۔
اس کی ماں کی نظریں ہر وقت اس کا پیچھا کرتیں، جیسے وہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ ان کے بیٹے کے اندر سے وہ ’پرانا عبدالمنان‘ کہاں غائب ہو گیا۔
’پے رول‘ ختم ہونے پر جب وہ واپس جیل کے گیٹ پر پہنچا، اور تلاشی لینے والے سپاہی کے کھردرے ہاتھوں نے اس کے جسم کو چھوا، تو اس کی ماں کے ہاتھوں کا لمس اور اس کے گھر کی خوشبو وہیں گیٹ کے باہر ہی جھڑ گئی ۔ جیل کے اندر داخل ہونا اب اتنا مشکل نہیں تھا، جتنا باہر کی دنیا سے بار بار کٹنا۔
اب وہ کسی پیشی پر اُمید کی انگلی تھامے نہیں جاتا تھا۔ وکیل جب عدالتی فیصلوں کی تشریح کرتا ، تو عبدالمنان کو وہ الفاظ کسی قدیم اور مردہ زبان کے قواعد لگتے ۔
اس کے لیے اب سچ اور جھوٹ میں کوئی فرق نہیں رہا، بس ایک’روٹین‘ ہے جوبار بار دہرائی جا رہی تھی۔ اسے پتا ہے کہ اسے رِہا بھی کیا گیا، تو وہ کسی ’انصاف‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاست کی کسی ’سیاسی عنایت‘ کی شکل میں ہوگا۔
عبدالمنان نے دیوار پر لگے اس چھوٹے سے سوراخ کی طرف دیکھا جہاں سے سورج کی ایک مرجھائی ہوئی کرن اندر آنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کیا یہ کرن بھی’ پے رول‘ پر آئی ہے؟ کیا اسے بھی تھوڑی دیر بعد اس اندھیرے میں واپس لوٹنا ہوگا؟
رات کے پچھلے پہر جب بیرک کی روشنیاں مدھم کر دی جاتیں، تو عبدالمنان کو محسوس ہوتا کہ کوٹھڑی کی دیواریں آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کے وجود کے ساتھ مس کرنے لگتیں۔
(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/دی وائر)
یہ وہ وقت ہوتا جب اس کا ’علم‘ اس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا۔ ایک اسکالر کا تخیل اس کے لیے جیل میں سب سے زیادہ مہلک ہتھیار ہوتا ہے۔
وہ دیوار کے کونے میں لگی ہوئی سیلن کے نقش و نگار میں ان کتبوں کے عکس ڈھونڈتا جن پر اسے تحقیق کرنی تھی۔
وہ کچی دیوار پر ناخن سے مٹی کریدتا اور اسے محسوس ہوتا کہ وہ اپنی ہی خود نوشت کے حرف مٹا رہا ہے۔
جیل کی لائبریری؛جسے وارڈن طنزیہ طور پر ’عبدالمنان کا کتب خانہ‘ کہتا تھا؛صرف چند مذہبی کتابوں اور پرانے رسالوں تک محدود تھا۔
عبدالمنان کو جب نئے کاغذ نہیں ملتے، تو وہ ان رسالوں کے حاشیوں پر اپنے ادھورے مقالے کے نکات لکھنے کی کوشش کرتا۔
لیکن ایک مدت کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کے ذہن سے لفظ ہجرت کر رہے ہیں۔ وہ ’مزاحمت‘ کا املا بار بار بھول جاتا۔ وہ ’آزادی‘ کے مترادفات یاد کرنے کی کوشش کرتا تو دماغ میں صرف لوہے کی سلاخوں کے ٹکرانے کی آواز آتی۔ یہ اس کے ذہن کا وہ ’کٹاؤ‘ تھا جس کا کوئی حساب کسی عدالت کے پاس نہیں تھا۔
’عبدالمنان! ملاقات آئی ہے۔‘
یہ آواز اسے کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ’ملاقات‘؛وہ لفظ جو کبھی خوشی لاتا تھا، اب ایک نیا بوجھ بن گیا تھا۔
گندے شیشے کے اُس پار اس کی ماں بیٹھی تھی۔ شیشے پر انگلیوں کے اتنے نشانات تھے کہ اسے اپنی ماں کا چہرہ کسی دھندلی تاریخ جیسا لگ رہا تھا۔
ان کے درمیان نصب انٹرکام کی جِھریوں سے ماں کی آواز کسی ٹوٹی ہوئی ریکارڈنگ کی طرح آ رہی تھی۔
’بیٹا! وکیل کہہ رہا ہے کہ اس بار جج صاحب بدل گئے ہیں۔ وہ بہت رحم دل ہیں۔ دعا کر رہی ہوں…‘
عبدالمنان نے ماں کے کانپتے ہوئے ہاتھ کو دیکھا جو شیشے پر ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس شیشے کو توڑ دے، لیکن اس نے صرف اپنا ہاتھ اس مقام پر رکھ دیا جہاں شیشے کے دوسری طرف اس کی ماں کی ہتھیلی تھی۔ اسے کوئی لمس محسوس نہیں ہوا، صرف ٹھنڈے کانچ کی بے حسی تھی۔
’ماں کو کیسے بتاؤں کہ یہاں جج نہیں بدلتے، صرف تاریخیں بدلتی ہیں۔ وہ جج جو رحم دل ہے، وہ بھی اسی قانون کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے جس نے میرے پانچ سالوں کو ایک ’ٹیکنیکل ایرر‘ بنا دیا ہے۔ میری بے گناہی اب ایک ایسا بوجھ ہے جسے اُٹھاتے اُٹھاتے عدالتیں بھی تھک گئی ہیں۔‘
واپسی پر، تلاشی کے دوران جب سپاہی نے اس کی بغل میں دبا ہوا وہ پرانا رسالہ چھین لیا جس کے حاشیوں پر اس نے کچھ لکھا تھا، تو عبدالمنان نے احتجاج نہیں کیا۔
’اب کیا پلان بنا رہے ہو ؟‘ سپاہی نے حقارت سے پوچھا۔
عبدالمنان نے خاموشی سے اسے دیکھا۔ اس نے سوچا، اگر میں اسے بتاؤں کہ یہ ’قدیم سمیری زبان‘ کے استعارے ہیں، تو کیا یہ مجھے تھپڑ مارے گا یا ہنسے گا؟ اس نے صرف اتنا کہا: ’کچھ نہیں صاحب، بس وقت کاٹ رہا ہوں۔‘
اور پھر اس ’خاص سماعت‘ (اسپیشل ہیرنگ) کا دن آیا۔
پوری جیل میں افواہ گرم تھی کہ اس بار سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیے ہیں۔ وکیل نے عبدالمنان کو اشارے سے بتایا کہ ’تیار رہو، آج انصاف کا مکھوٹا اترنے والا ہے۔‘ اس کے اندر مردہ ہوتی ہوئی امید نے ایک آخری کروٹ لی۔ اسے لگا کہ شاید آج وہ اس ہوا میں سانس لے سکے گا جس میں کسی قیدی کی بُو شامل نہیں ہوگی۔ اس نے اپنی سب سے صاف قمیص پہنی، جو اَب اسے ڈھیلی ہو چکی تھی؛جیسے اس کا جسم بھی ان پانچ سالوں میں تھوڑا سا ’کم‘ ہو گیا ہو۔
عدالت کے کمرے میں سناٹا تھا۔ جج صاحب نے فائل کھولی، عینک صاف کی، اور وکیل کی طرف دیکھ کر ایک سرد مسکراہٹ اُچھالی۔
’یہ عدالت مطمئن ہے کہ استغاثہ کے مواد سے ملزم عبدالمنان کے خلاف پہلی نظر میں الزامات سامنے آئے ہیں۔ قانونی حد اس ملزم پر لاگو ہوتی ہے۔ کارروائی کے اس مرحلے پر انھیں ضمانت پر رہا کرنا مناسب نہیں ہے۔‘‘
جج صاحب نے قلم اٹھایا اور ایک ایسی حرکت کی جیسے وہ کسی کاغذ پر نہیں بلکہ عبدالمنان کی شہ رگ پر نشان لگا رہے ہوں۔
’ملزم جانچ مکمل ہونے کے بعد یا اس فیصلے کی تاریخ کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ضمانت کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتا ہے۔‘
کمرے میں موجود وکیلوں کے درمیان چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ عبدالمنان وہیں کھڑا رہا۔ اسے لگا کہ وہ کسی عدالت میں نہیں، بلکہ ایک قصائی کی دکان پر ہے جہاں اسے ’وزن‘ کے حساب سے نہیں بلکہ ’خوف‘ کے حساب سے تولا جا رہا ہے۔
السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر
وہ اونچائی، جہاں سے اسے دھکیلا گیا تھا، اتنی زیادہ تھی کہ گرتے وقت اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ جب پولیس والے اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگے، تو اس نے مڑ کر جج کے پیچھے لگی ہوئی اس ترازو کی تصویر کو دیکھا۔ اسے لگا کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہیں، بلکہ ایک پلڑے میں ریاست کا پورا بوجھ ہے اور دوسرے میں ایک نوجوان لاش، جو ابھی سانس لے رہی ہے۔
واپسی میں عبدالمنان نے گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کی روشنیاں، بلند و بالا عمارتیں، اور سڑک پر چلتے ہوئے لوگ؛سب اسے کسی ایسی فلم کے کردار لگے جو اس نے کبھی دیکھی تھی لیکن اب اسے اس کی کہانی یاد نہیں۔
جیل کے گیٹ پر پہنچ کر، وارڈن نے طنزیہ سلام کیا۔
’خوش آمدید اسکالر صاحب! میں نے کہا تھا نا، یہاں سے صرف وقت نکلتا ہے، انسان نہیں۔ چلو، اب اپنی کوٹھڑی کی دیواروں کا نصاب دوبارہ شروع کردو۔‘
عبدالمنان نے اندر قدم رکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اب اس کے اندر کی چھٹپٹاہٹ ختم ہو گئی ہے۔ اسے اب کسی ’پےرول‘ کی ضرورت نہیں تھی، نہ کسی وکیل کی، نہ کسی مورچے کی۔ اس نے دیوار پر ناخن سے ایک اور لکیر کھینچی۔
یہ لکیر کسی تاریخ کی نہیں تھی، بلکہ یہ اس کی روح کی وہ آخری لکیر تھی جو اَب خاموش ہو چکی تھی۔ اس نے سوچا، اگر میرا علم مجھے نہیں بچا سکا، تو شاید میرا سکوت ہی میرا آخری احتجاج ہو۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں اور اس خلا میں اتر گیا جہاں انصاف ایک ازکار رفتہ چیز ہے اور وقت ایک ایسی زنجیر، جو آپ کے اپنے ہی خون سے نم ہوتی ہے۔
اوپر آسمان میں ایک کبوتر اُڑا، لیکن عبدالمنان نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ تو اب اس دیوار کا حصہ بن چکا تھا جس پر ’ناانصافی‘ کا کتبہ کندہ تھا۔
ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





