ارندھتی رائے نے غزہ کے مسئلے پر جیوری کے تبصرے کے بعد برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں جانے سے انکار کیا

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 14, 2026361 Views


رندھتی رائے نے غزہ پر برلنالے جیوری کے بیان کو ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ بتاتے ہوئے 2026 کے فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی فلم ’ان وہچ اینی گوز اٹ دوز ونس‘ کو کلاسکس سیکشن میں منتخب کیا گیا تھا۔

ارندھتی رائے۔ (تصویر: دی وائر)

نئی دہلی: ارندھتی رائے نے غزہ کے حوالے سے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (برلنالے) کی جیوری کے تبصروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 2026 کے فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جیوری ممبران یہ کہتے ہیں کہ آرٹ کو سیاست سے دور رہنا چاہیے، تو یہ ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ ہے۔

رائے کی لکھی ہوئی 38 سال پرانی فلم ’ان وہچ اینی گوز اٹ دوز ونس‘ کو برلنالے 2026 کے ’کلاسکس‘ سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک جذباتی اور خوشگوار لمحہ تھا۔ تاہم ،جرمن حکومت اور وہاں کے ثقافتی اداروں کی جانب سے فلسطین کے مسئلے پر اختیار کیے گئے رخ سے وہ پہلے سے ہی مضطرب تھیں۔

’اس کے باوجود، جب بھی میں نے جرمن ناظرین کے سامنے غزہ میں جاری نسل کشی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، مجھے ان کی سیاسی یکجہتی حاصل ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے میں نے برلنالے میں ’اینی‘ کی اسکریننگ میں شامل ہونے کے بارے میں سوچا تھا۔‘

فلم کا پوسٹر۔

انہوں نے اپنے بیان میں واضح لفظوں میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا ہے اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی ریاست کی جانب سے کی جا رہی ’نسل کشی‘ ہے۔ رائے نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک کی حکومتیں اس کارروائی کی حمایت اور مالی معاونت کر رہی ہیں، جس کے باعث وہ بھی اس جرم میں شریک  ہیں۔

رائے نے کہا کہ فنکاروں، ادیبوں اور فلمسازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے وقت میں خاموش نہ رہیں۔ ’اگر ہمارے عہد کے بڑے فلمساز اور فنکار بھی یہ کہنے کی حوصلہ نہیں دکھا سکتے، تو تاریخ انہیں کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔‘ انہوں نے کہا۔

آخر میں انہوں نے ’گہرے افسوس‘ کے ساتھ برلنالے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا، جب برلنالے کی لائیو پریس کانفرنس کے دوران صحافی ٹیلو یونگ نے میلے کی ’سلیکٹو سالیڈیریٹی ‘ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ ایران اور یوکرین کے مسئلےپر تو حمایت ظاہر کی جاتی ہے، لیکن فلسطین کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ اس پر جیوری کے صدر اور آسکر کے لیے نامزد ہدایت کار وم وینڈرز نے جواب دیا، ’ہمیں سیاست سے دور رہنا چاہیے۔‘

غور طلب ہے کہ وم وینڈرز نے 2024 میں برلنالے کی سیاسی پہچان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ میلہ روایتی طور پر بڑے فلمی میلوں میں سب سے زیادہ سیاسی رہا ہے اور آئندہ بھی اپنی بات کہتا رہے گا۔ ایسے میں اس سال دیا گیا ان کا بیان ان کے سابقہ موقف سے الگ مانا جا رہا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...