کیرالہ حکومت نے بڑے پیمانے پر صنفی انصاف کو یقینی بنانے کے مقصد سے نئی ’ویمنس پالیسی 2026‘ کو منظوری دے دی ہے۔ صحت ،خواتین واطفال بہبود کی وزیر وینا جارج نے بتایا کہ ریاستی کابینہ نے نظرثانی شدہ پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی بھی ریاست کی طرف سے متعارف کرائی جانے والی پہلی ایسی پالیسی ہے جو بزرگ شہریوں کے احترام اور بہبود کے تحفظ کے لیے جامع اور مساوی فریم ورک قائم کرتی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ یہ پالیسی خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ریاست میں بزرگوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس وقت کل آبادی کا 16.5 فیصد ہوگئی ہے۔ یہ تعداد 2036 تک بڑھ کر کل آبادی کا 23 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ وزیر وینا جارج کے مطابق یہ پالیسی محکمہ خواتین اور اطفال بہبود کے تحت تشکیل دی گئی 11 رکنی جینڈر کونسل نے تیار کی ہے۔ اسکیم تیار کرنے سے پہلے 9 اجلاس منعقد کیے گئے، ایک سیمینارہوا اور 8 اہم موضوعات پر 72 ماہرین سے مشاورت کی گئی۔ اس کے علاوہ پالیسی کو 3 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 300 خواتین کی رائے حاصل کرنے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔
نئی ویمنس پالیسی 2026 کا بنیادی مقصد ذات پات، مذہب اور جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کرنا اور معاشرے کے تمام شعبوں میں خواتین کی مساوی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ پالیسی گورننس، قانون ساز اداروں اور فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے پر زور دیتی ہے۔
اس کے علاوہ روزگار، تعلیم اور طبی خدمات میں صنفی انصاف کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، آبادی کے بدلتے ہوئے رجحانات کی روشنی میں بزرگ خواتین کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے موجودہ میکانزم کو مزید مضبوط بنانے کے سمت میں اقدامات کئے جائیں گے۔
اس کے علاوہ آن لائن نفرت اور سائبر ہراسمنٹ کے خلاف بھی سخت کارروائی کا التزام کیا گیاہے۔ سنیما اور میڈیا شعبوں میں خواتین کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ہیما کمیٹی کی سفارشات پرعمل درآمد کیا جائے گا۔ ریاستی وزیر وینا جارج نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ریاستی صنفی نگرانی کمیٹی پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔ مزید برآں موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ہر سرکاری محکمے میں ایک جینڈر ریسورس پرسن کا تقرر کیا جائے گا۔


































