
لوک سبھا میں راہل گاندھی نے حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ ہمارے فیصلے کیسے طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ امریکہ کے لیے کھول دیا گیا مگر کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ان کے مطابق امریکہ کا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد ہو گیا اور حکومت خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی آنکھوں میں خوف دکھائی دیتا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں، جن میں ایک ایپسٹین فائل کا معاملہ ہے۔
راہل گاندھی نے دفاعی بجٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس پر چوک نظر آتی ہے اور اس کا تعلق مسٹر اڈانی سے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈانی کی کمپنی پر امریکہ میں مقدمہ ہے اور اصل نشانہ وزیر اعظم ہیں۔ اس بیان پر روی شنکر پرساد اور کیرن ریجیجو نے سخت اعتراض کیا اور غلط بیانی کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی نے انیل امبانی اور ہردیپ پوری کا بھی ذکر کیا، جس پر ایوان میں ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔






