موگا ضلع میں کسان نے پیش کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال، قبرستان کے لیے عطیہ کر دی اپنی زمین

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 10, 2026361 Views


کسان جگدیش سنگھ نے بتایا کہ قبرستان تو بہت پرانا ہے لیکن وہاں تک جانے کے لیے کوئی پختہ راستہ نہیں ہے۔ اب پنچایت نے راستہ دینے کے بارے میں سوچا ہے تو ہم زمین دینے کے لیے آگے آئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>قبرستان کے لیے زمین عطیہ کرنے والے کسان جگدیش سنگھ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div><div class="paragraphs"><p>قبرستان کے لیے زمین عطیہ کرنے والے کسان جگدیش سنگھ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

i

user

موگا ضلع کے گاؤں مِہنا میں ایک کسان نے آپسی بھائی چارے کی انوکھی مثال پیش کی ہے۔ سکھ کسان نے گاؤں کے مسلم خاندانوں کے قبرستان تک جانے کے لیے اپنی زمین عطیہ کے طور پر دے دی۔ دراصل گاؤں میں کچھ مسلم خاندان 1947 سے پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کا قبرستان کھیتوں کے درمیان ہے، لیکن وہاں جانے کے لیے کوئی پختہ راستہ نہیں تھا۔ جب بھی کسی کا انتقال ہوتا تھا تو اس کو دفنانے کے لیے لوگوں کو کسانوں کی کھڑی فصلوں سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ کچھ روز قبل ایک بزرگ مسلم خاتون کے انتقال کے بعد ان کے جنازے کو گیہوں کے کھیتوں سے ہو کر قبرستان تک لے جانا پڑا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔

اس واقعہ کے بعد گاؤں کی پنچایت نے قبرستان کے لیے مستقل راستہ دینے پر غور و خوض کیا۔ پنچایت کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے گاؤں کے سکھ کسان جگدیش سنگھ نے قبرستان تک جانے کے لیے اپنی زمین عطیہ کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس سے قبل بھی اسی گاؤں میں ایک سکھ خاندان کے ذریعہ مسجد کے لیے زمین عطیہ کی گئی تھی۔ اس قدم سے موگا کے اس کسان نے پھر سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کی مثال قائم کی ہے۔

کسان جگدیش سنگھ نے بتایا کہ گاؤں میں کچھ مسلم خاندان 1947 سے پہلے سے رہ رہے ہیں اور ہم تمام ایک خاندان کی طرح مل کر رہتے ہیں۔ کچھ روز قبل ایک بزرگ خاتون کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے جنازے کو قبرستان تک لے جانے کے لیے میرے کھیت سے ہو کر جانا پڑا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ قبرستان تو بہت پرانا ہے لیکن وہاں تک جانے کے لیے کوئی پختہ راستہ نہیں ہے اور پہلے کسی نے اس کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ اب پنچایت نے راستہ دینے کے بارے میں سوچا ہے تو ہم زمین دینے کے لیے آگے آئے ہیں۔ جگدیش سنگھ کے مطابق راستے کے لیے جتنی بھی زمین کی ضرورت ہوگی، ہم دینے کو تیار ہیں کیونکہ ہم تمام ایک ہی گاؤں میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور آپسی بھائی چارہ بنائے رکھیں۔

مذکورہ معاملے پر گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں مسلم خاندان 1947 سے پہلے سے رہ رہے ہیں۔ گاؤں میں تمام لوگ متحد ہو کر ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ قبرستان کے راستے کے لیے جگدیش سنگھ کے ذریعہ دی گئی زمین نے گاؤں میں پھر سے آپسی بھائی چارے کا پیغام دیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک سکھ خاندان نے مسجد کے لیے زمین عطیہ کی تھی، جو باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کی مثال ہے۔

گاؤں کے سرپنچ امن دیپ سنگھ بھیما نے بتایا کہ قبرستان تک جانے کے لیے کاغذوں میں کوئی آفیشل راستہ درج نہیں ہے اور نہ ہی پہلے کبھی اس کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ معاملہ ان کے علم میں آیا، سب سے پہلے راستہ دینے کے بارے میں سوچا گیا۔ اس کے لیے کسان جگدیش سنگھ سے بات کی گئی، جو ایک ہی بار میں زمین دینے کے لیے راضی ہو گئے۔ سرپنچ کے مطابق اس کے لیے پٹواری سے بھی بات چیت ہو چکی ہے اور زمین کو تحریری طور پر پختہ کر آفیشل طور پر راستہ تیار کر کے دیا جائے گا۔ امن دیپ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ یہی آپسی بھائی چارے کی مثال ہے، کیونکہ تمام لوگ طویل عرصے سے مل جل کر ساتھ رہ رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...