
اس موقع پر شاہ نواز احمد صدیقی نے اسد رضا کے ساتھ وابستہ یادوں کو تازہ کیا اور ان کی باغ و بہار طبیعت کا ذکر کیا۔
آسیہ خان نے ملازمت کے دوران اسد رضا کے ساتھ گزرے وقت اور اس دوران پیش آنے والے خوش گوار واقعات کو یاد کرتے ہوئے ان کے آخری دیدار سے محرومی کے ملال کا اظہار کیا۔
مرحوم کی صاحبزادی ثنا اسد نے کہا کہ ان کے والد کے فنی کمالات سے سب واقف ہیں، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی انسان دوستی اور رشتوں کی پاسداری تھی۔ وہ نہ صرف ایک معروف قلم کار تھے بلکہ ہر رشتے کو خلوص کے ساتھ نبھانے والے انسان بھی تھے۔
تعزیتی اجلاس میں مرحوم کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب بھی شریک تھے، جن میں قنبر رضا نقوی، ثمر رضا نقوی، سید عباس رضا چھولسی اور گلنار زہری شامل ہیں، جبکہ دیگر اہم شرکا میں سید خرم رضا، ممتاز احمد، مفیض الرحمن، جمیل اختر، انس فیضی، شاکر دہلوی، ترنم جہاں، شبنم اور کشفی شمائل کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
جلسے کے کنوینر سلام خاں نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسد رضا کی رحلت کو ذاتی نقصان قرار دیا۔






