تعلیمی اداروں میں رائج امتیاز کے خلاف منصفانہ برابری کی جدوجہد…میناکشی نٹراجن

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 8, 2026362 Views


دنیا کے ترقی پسند ممالک کے تعلیمی اداروں میں ایسا نظام موجود ہے۔ داخلے کے عمل میں صنفی، ہم جنس پرست، نسلی، معاشی اور جسمانی چیلنجز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ترحم نہیں بلکہ منصفانہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ امتحانی نظام بنانے والے اکثر بالادست سفید فام طبقے سے ہوتے ہیں، اس لیے وہ دیگر نسلی پس منظر کے خاندانوں کی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں، نتیجتاً سیاہ فام طلبہ بہتر ثابت نہیں ہو پاتے۔ تہذیبی حقیقت کو مختلف طرزِ زندگی کے طور پر سمجھے بغیر کون سی اہلیت ثابت ہو سکتی ہے؟ اب امریکہ میں بھی بعض جامعات کو ایسے نظام ختم نہ کرنے پر مالی پابندیوں کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

جس دن پیدائشی برتری ختم کی جائے گی، بہت کچھ بدل جائے گا۔ اگر زیادہ سے زیادہ آمدنی کی حد مقرر ہو، بین النسلی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہو تو ماحول منصفانہ برابری کے قریب آئے گا۔ جو لوگ ہر ترقی پسند قدم میں طبقاتی کشمکش کا خوف دیکھتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جامع نظام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ پرتشدد تصادم سے بچا جا سکے۔ خاموشی امن نہیں ہوتی۔ استحصال کی قیمت پر جدوجہد کو مؤخر کرنا بھی ایک طرح کی طبقاتی کشمکش ہے۔

بابا صاحب نے دستور ساز اسمبلی میں خبردار کیا تھا کہ سماجی امتیاز کی بنیاد پر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی، یہ بات سب کو خصوصاً بالادست طبقے کو یاد رکھنی چاہیے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...