
کیا آپ اندر سے جوش میں تھے کہ موقع ملا ہے تو کچھ کرنا ہے؟ اس سوال کے جواب پر سراج نے کہا کہ ’’جذبات تو رہتے ہی ہیں۔ بطور کھلاڑی جب آپ ورلڈ کپ کھیل رہے ہوں تو ایک پروفیشنل کے لیے الگ ہی خواب رہتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جیسا رنجی میں کرتا آ رہا ہوں ویسے ہی کرنا ہے۔ نئی گیند پر ہِٹ مارنا آسان نہیں ہوتا تھا، تو وکٹ ٹو وکٹ گیند ڈالو تو وہاں پر وکٹ مل بھی گئے۔‘‘






