اعلیٰ تعلیم کے تئیں طلبا کی عدم دلچسپی سے جنگ لڑتے نظر آ رہے ضیاء اللہ انور!

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 7, 2026363 Views


میں نے 6 سال مگدھ یونیورسٹی میں اور ایک سال راجندر کالج چھپرہ میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ اس اعتبار سے میں کووڈ سے پہلے تدریس کے طریقہ اور بعد میں تبدیل ہونے والی صورت حال کا بھی گواہ ہوں۔ گزشتہ 7 سالوں میں جہاں ہندوستان گیر سطح پر درس و تدریس کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے، وہیں بہار میں بھی اس کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بہار میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینا اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ یہاں اعلی تعلیم کے معاملہ میں ذمہ داران کی بے توجہی اور طلبا کی عدم دلچسپی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کووڈ کے بعد سے طلبا کا کلاس روم سے عدم دلچسپی تدریس کے روایتی ڈھنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ طلباء آن لائن ذرائع سے تدریس کے خواہاں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کی دوری ہے۔ یہاں عموماً طلباء دور دراز کے علاقہ سے آتے ہیں۔ کچھ طلبا کو تو 2 سے 4 گھنٹے صرف یونیورسٹی آنے میں لگ جاتے ہیں۔ انہیں گھر پہنچتے پہنچتے شام، اور کئی دفعہ رات ہو جاتی ہے۔ چونکہ شعبہ اردو میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے حاضری کا مسئلہ رہتا ہے۔ دراصل سرپرست خود بچیوں کو کلاس مسلسل بھیجنے میں کتراتے ہیں۔ بسا اوقات تو اس وجہ سے بچیوں کا تعلیمی سلسلہ بھی منقطع کروا دیا جاتا ہے۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی طلباء کی تعلیمی لیاقت میں بہت واضح فرق دکھائی پڑتا ہے۔ ایک ہی کلاس میں طلباء کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتیں بہت مختلف ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے سبق کو سب کے لیے یکساں مؤثر بنانا ایک چیلنج رہا ہے۔ ان مسائل کے باوجود میں نے صبر، مسلسل سیکھنے اور تدریسی مہارتوں میں بہتری کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...