
ایمیزون بیٹ کی رپورٹر کیرولین او ڈونوون نے لکھا کہ میں باہر ہوں، اور کئی بہترین لوگ بھی نوکری سے نکالے گئے ہیں، یہ بھیانک ہے۔ ایمینوئل فیلٹن، ریس اور نسل کے رپورٹر ہیں، نے کہا کہ یہ کوئی مالی فیصلہ نہیں تھا یہ ایک نظریاتی فیصلہ تھا۔ اخبار کے مالک جیف بیزوس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اخبار کو منافع بخش بنائے، جس کی وجہ سے انہیں نیوز روم میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بیرن نے کہا کہ یہ ’دنیا کے سب سے بڑے نیوز ادارے میں سیاہ ترین دنوں میں سے ایک‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری چیلنجز تھے لیکن اوپر سے لئے گئے غلط فیصلوں نے انہیں مزید بگاڑ دیا ہے۔






