ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک او برائن نے بھی الزام لگایا ہے کہ کمیشن باضابطہ تحریری ہدایات کے بجائے واٹس ایپ جیسے غیر رسمی ذرائع سے زمینی افسران کو احکامات دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طریقہ کار انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس سماعت کو مغربی بنگال کی آئندہ سیاست اور آنے والے انتخابات کی غیر جانبداری کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل بلکہ ریاست میں انتخابی ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔






