
انہوں نے خبردار کیا کہ سبسڈی یافتہ امریکی زرعی اجناس کی آمد سے ہندوستانی کسانوں کو اپنی فصلوں کا مناسب دام نہیں مل پائے گا، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق سستے درآمدی سامان کے سبب کم از کم امدادی قیمت کا نظام بھی کمزور پڑ سکتا ہے اور کسانوں کے تحفظ کا ڈھانچہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی قرض اور بڑھتی لاگت سے پریشان چھوٹے اور محدود کسان اس معاہدے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کا معاہدہ زراعت پر کارپوریٹ کنٹرول کو بڑھا سکتا ہے اور کاشت کاری آہستہ آہستہ کسانوں کے ہاتھ سے نکل کر بڑی کمپنیوں کے سپرد ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق درآمدات پر بڑھتی ہوئی انحصار سے ملک کی غذائی سلامتی اور خود کفالت کا تصور بھی کمزور ہوگا۔





