
اس اعلان کے ساتھ ہی گزشتہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا، جن میں یہ سوال زیرِ بحث تھا کہ آیا پاکستان مکمل طور پر ورلڈ کپ میں شریک ہوگا یا نہیں۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ شرکت کی منظوری دی جا رہی ہے، تاہم ہندوستان کے خلاف میچ کے حوالے سے فیصلہ برقرار رہے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اگر میچ نہ کھیلا گیا تو قواعد کے مطابق ہندوستان کو واک اوور ملنے کا امکان ہے، جس سے گروپ کی صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آئی سی سی کے ضوابط کے تحت اگر کوئی ٹیم شیڈول میچ میں شرکت نہیں کرتی تو مالی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آئی سی سی کو اس معاملے میں اختیار حاصل ہے اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتی ہے۔ ٹورنامنٹ منتظمین کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کو سب سے بڑی کشش اور آمدنی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔






