
ملکی عدالتوں کی جانب سے متنازع معاملات میں سنائے جانے والے فیصلوں پر الگ الگ آراء کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایک طبقہ ان پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا ہے تو دوسرا طبقہ ان کی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی ایسے کئی فیصلے سامنے آئے ہیں جو عوامی حلقوں میں بے چینی کا باعث بنے ہیں۔ لیکن یہی عدالتیں ایسے فیصلے بھی سناتی ہیں جن کی بڑے پیمانے پر ستائش کی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جس کی ستائش کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ملزموں کے پولیس انکاؤنٹر کے سلسلے میں ہے۔ عدالت نے ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اترپردیش میں پولیس انکاؤنٹر معمول بن گئے ہیں اور وہ اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ اعلیٰ پولیس اہل کاروں کو خوش کیا جائے یا پھر ملزموں سبق سکھایا جائے۔
عدالت تین افراد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی جنھیں اترپردیش کے مختلف اضلاع میں گرفتاری سے قبل گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔ جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال کی بینچ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت کے سامنے ایسے کیس اکثر آتے ہیں جو چوری چکاری جیسے معمولی جرائم سے متعلق ہوتے ہیں۔ پولیس ان لوگوں پر اس انداز میں اندھا دھند فائرنگ کرتی ہے جیسے کہ وہ انکاؤنٹر ہوں۔ ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ سزا دینے کا اختیار عدالتوں کو ہے پولیس کو نہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جو کہ آئین و قانون سے چلتا ہے۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے کام الگ الگ ہیں اور ان کی صریح وضاحت کی گئی ہے۔ عدلیہ کے معاملات میں پولیس کی مداخلت کی بالکل حمایت نہیں کی جا سکتی۔






