
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اتر پردیش حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے معید خان کی بیکری اور ایک کثیر منزلہ شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا تھا۔ اس کارروائی نے ریاست بھر میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی اور حکومت پر قبل از وقت سزا دینے کے الزامات لگے تھے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان فخر الحسن چاند نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بے قصور شخص کو سیاسی سازش کے تحت پھنسایا گیا تھا، جسے اب عدالت نے بری کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو نقصان معید خان کی ساکھ اور املاک کو پہنچا، اس کی ذمہ داری کون لے گا۔
یہ معاملہ اس بحث کو پھر سے زندہ کرتا ہے کہ کسی بھی الزام میں حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے انتظامی کارروائی، خصوصاً بلڈوزر جیسے اقدامات، کس حد تک انصاف کے اصولوں کے مطابق ہیں۔






