
یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے ضوابط 2026‘ کے خلاف جاری احتجاج مزید تیز ہو گیا ہے۔ طلبہ مظاہروں اور عدالتی چیلنج کے بعد اس تنازعہ نے مذہبی، انتظامی اور سیاسی سطح پر نئی شکل اختیار کر لی ہے، جس سے حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پریاگ راج میں سادھو سنتوں کی مداخلت نے اس معاملے کو محض تعلیمی پالیسی کے دائرے سے نکال کر سماجی تشویش میں بدل دیا ہے۔ سوامی اویمکتیشورانند نے یو جی سی کے ضوابط کو ذاتوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذات پیدائشی طور پر نہ ظالم ہوتی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر انصاف پسند۔





