
بہار کے پٹنہ میں پنجاب نیشنل بینک کی ملازمہ ریتیکا نے بتایا کہ شہر میں سیکڑوں بینک ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے اعلان پر یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بینکوں میں کام کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ اور صحت سے متعلق مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کی اسکیموں کو عملی شکل دینے میں بینک ملازمین کا بڑا کردار ہے، اس لیے پانچ دن کام کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج مزید سخت ہو سکتا ہے۔
چھتیس گڑھ کے رائے پور میں بھی بڑی تعداد میں بینک ملازمین نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر آل انڈیا پنجاب نیشنل بینک کے صدر ملند مارٹے نے کہا کہ ملک بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد بینک ملازمین اس ہڑتال میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے، جبکہ دیگر سرکاری اداروں میں پہلے ہی ہفتے میں دو دن کی چھٹی دی جا رہی ہے۔
مغربی بنگال کے کوچ بہار میں بھی بینک ملازمین کی تنظیموں نے مختلف بینک شاخوں کے سامنے احتجاج کیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ مختلف ریاستوں میں ہڑتال کے باعث بینک برانچوں میں نقد لین دین اور دیگر خدمات متاثر رہیں، جس سے عام صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔






