
طاہر فراز کا لہجہ اور لے غیر معمولی طور پر خوش آہنگ تھی۔ ان کی غزل ایک شفاف اور سرسبز چشمے کی مانند محسوس ہوتی تھی، جس میں بناوٹ یا تصنع کا شائبہ نہیں ملتا۔ ان کے کلام کی یہی فطری موسیقیت اور نامیاتی آہنگ انہیں مشاعروں کے عام شاعروں سے ممتاز کرتا تھا۔ جب وہ ترنم میں اپنا کلام سناتے تو محفل پر ایک وقار بھری خاموشی چھا جاتی۔
ان کی شاعری میں درد، تڑپ اور ایک گہری اندرونی ٹیس صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ درد کسی مصنوعی جذباتیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے جنم لینے والا سچ تھا:
اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں
کاش میں سب کے برابر ہوتا
یہ تنہائی ایک فرد کی نہیں بلکہ حساس انسان کی تنہائی ہے، جو ہجوم میں رہتے ہوئے بھی خود کو الگ محسوس کرتا ہے۔






