
میڈیا کی سنسنی خیز خبروں کی بھوک اور سوشل میڈیا سے ملنے والی اس کی غذا نے ایسا منظرنامہ تشکیل دے دیا ہے کہ صحیح اور غلط، جائز اور ناجائز، معمولی اور اہم، سب کچھ گڈمڈ ہو کر محض سنسنی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ عام طور پر امن پسند سمجھا جانے والا ہمارا شہر بریلی بھی اب اسی زد میں ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بشارت گنج کا ایک چھوٹا سا گاؤں محمد گنج خبروں میں ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، ہر کسی کے پاس کچھ نہ کچھ بتانے کو ہے اور بتایا بھی جا رہا ہے۔ اس بار زیرِ بحث نماز ہے۔
واقعہ 16 جنوری کا ہے۔ گاؤں میں حسین خاں کے خالی گھر میں گاؤں کے ہی چند لوگ جمعہ کے دن نماز ادا کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تیج پال نامی ایک شخص نے گھر میں داخل ہو کر نماز ادا کرتے لوگوں کی ویڈیو بنائی، اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور پھر لوگوں نے پولیس سے شکایت کر دی کہ ایک عارضی مدرسہ قائم کر کے وہاں نماز پڑھائی جا رہی ہے۔ بعد ازاں سب انسپکٹر انیس احمد نے ویڈیو کی بنیاد پر شناخت کرتے ہوئے 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور 12 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کو آنولا میں ایس ڈی ایم کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔






