
یہ مقدمہ امریکہ کی سان فرانسسکو کی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ میٹا اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں نے دنیا بھر میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے اربوں صارفین کو گمراہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعوؤں کے ذریعے صارفین کو یہ یقین دلایا کہ ان کی چیٹس مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس مقدمے میں آسٹریلیا، برازیل، ہندوستان، میکسیکو اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالت اس معاملے کو کلاس ایکشن مقدمے کے طور پر قبول کرے تاکہ تمام متاثرہ صارفین کی نمائندگی ایک ہی کیس کے تحت کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقدمہ منظور ہوتا ہے تو اس سے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔






