
شنکراچاریہ اوی مکتیشور انندسرسوتی نے اس واقعے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے اور کیمپ میں مقیم عقیدت مندوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کیمپ میں سیکورٹی بڑھانے پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو پولیس اور انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔واضح رہے کہ 18 جنوری کو مونی اماواسیہ پر اسنان (نہانے )کا تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے شنکراچاریہ مسلسل ساتویں دن بھی اپنے کیمپ کے باہر بیٹھے ہیں۔ اس واقعہ نے تنازعہ کو مزید بڑھا دیا ہے۔





