
منیش رنجن کی گرفتاری 15 جنوری کو عمل میں آئی تھی۔ وہ اسی عمارت کے مالک ہیں جہاں متوفیٰ نیٹ طالبہ رہائش پذیر تھی۔ خیال رہے کہ اس معاملے میں اب تک وہی واحد ملزم ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل منیش رنجن نے عدالت میں ریگولر بیل کے لیے درخواست دائر کی تھی، جسے سماعت کے بعد مسترد کر دیا گیا۔
اس کیس میں 14 جنوری کو پی ایم سی ایچ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تھی، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جنسی تشدد کے امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر اگلے دن یعنی 15 جنوری کو منیش رنجن کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور متوفیٰ طالبہ کے اہل خانہ نے سوال اٹھایا تھا کہ ملزم کو پولیس ریمانڈ پر لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی۔






