
قابل ذکر ہے کہ راہل مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ اس کی موت کے بعد گھر میں کمانے والا کوئی نہیں بچا ہے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی شیوانی اور 3 چھوٹے بچوں کو چھوڑ گیا ہے۔ سب سے چھوٹا محض 15 دن کا ہے۔ بڑے بیٹے آرین کی عمر 4 سال ہے اور دوسرے بیٹے کی عمر ڈھائی سال ہے۔ پورے گاؤں میں سوگ کا ماحول ہے، ہر آنکھ نم ہے اور ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر غریب اور دلت خاندان کو کب انصاف ملے گا۔ گاؤں والوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔






