
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا بی سی سی آئی کی جانب سے پیش ہوئے اور مفاد عامہ کی عرضی میں نامزد مدعا علیہان کا ذکر کیا۔ عدالت نے عرضی گزار لا اسٹوڈنٹ سے کہا کہ اس بارے میں سوچیے۔ ایسی عرضی داخل کر کے آپ بلا وجہ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش ہائی کمیشن، سری لنکا کرکٹ بورڈ، آئی سی سی یہاں تک کہ ہندوستانی حکومت کو بھی کسی خاص طریقے سے کام کرنے کے لیے کوئی رِٹ جاری نہیں کی جا سکتی، خاص کر اس صورت میں جو بنگلہ دیش میں کسی واقعہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو۔ یہ ایگزیکٹو کے اختیار ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار کو مزید تعمیری کام کرنے کا مشورہ دیا اور عرضی کو واپس لی ہوئی تسلیم کر خارج کر دی ہے۔






