
ان کے خلائی کیریئر کا آغاز نو دسمبر 2006 کو اس وقت ہوا جب وہ خلائی شٹل ڈسکوری کے ذریعے روانہ ہوئیں۔ بعد میں وہ ایک اور مشن کے ساتھ کامیابی سے زمین پر واپس آئیں۔ ایکسپیڈیشن 14 اور 15 کے دوران انہوں نے فلائٹ انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور متعدد خلائی چہل قدمیاں کیں، جن میں ان کی تکنیکی صلاحیت اور جسمانی برداشت نمایاں رہی۔
2012 میں انہوں نے قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے ایک طویل مشن کا آغاز کیا اور بعد میں خلائی اسٹیشن کی کمان سنبھالنے والی چند خواتین میں شامل ہو گئیں۔ دو ہزار چوبیس میں شروع ہونے والا ان کا تیسرا مشن سب سے طویل ثابت ہوا، جو تکنیکی مسائل کے باعث نو ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران پوری دنیا کی نظریں ان پر مرکوز رہیں۔ مجموعی طور پر انہوں نے باسٹھ گھنٹے سے زائد وقت خلائی چہل قدمیوں میں گزارا اور خلا میں میراتھن دوڑنے والی پہلی انسان بنیں، جو ان کے کیریئر کی ایک منفرد پہچان ہے۔






