
اس بین الاقوامی جیوری کی صدارت ہندوستان کے سابق قومی سلامتی مشیر اور سابق خارجہ سکریٹری شیوشنکر مینن کر رہے ہیں۔ جیوری نے اپنے بیان میں کہا کہ گراسا ماشیل نے تعلیم، صحت، غذائیت اور سماجی انصاف کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔ ان کی سوچ کا مرکز ایک ایسا معاشرہ رہا ہے جہاں مساوات، انصاف اور مواقع سب کے لیے یکساں ہوں۔
گراسا ماشیل کی پیدائش سترہ اکتوبر انیس سو پینتالیس کو موزمبیق کے ایک دیہی علاقے میں گراسا سیمبینے کے نام سے ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میتھوڈسٹ مشن اسکولوں میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں لزبن یونیورسٹی میں جرمن زبان کی تعلیم کے لیے وظیفہ ملا، جہاں ان کے اندر آزادی اور سیاسی شعور نے مضبوط شکل اختیار کی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے اپنے ملک کے حالات کو بدلنے کے عزم کے ساتھ عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔






