
کمیشن نے شناختی ثبوت کے طور پر قابل قبول 13 دستاویزات پہلے ہی طے کر رکھی تھیں اور واضح ہدایت دی تھی کہ ان کے علاوہ کسی اور دستاویز کو قبول نہ کیا جائے۔ ضلعی مجسٹریٹوں اور ضلعی انتخابی افسران کو بھی اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کرائیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق متعدد معاملات سامنے آئے ہیں جہاں غیر فہرست شدہ دستاویزات کو شناختی ثبوت کے طور پر قبول کیا گیا، جس پر کمیشن سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور ممکنہ کارروائی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔





