ایک مذہبی و سائنسی سوال…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 18, 2026362 Views


انسان کی ابتدا کا سوال انسانی شعور کے قدیم ترین سوالات میں سے ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ یا اساطیری داستان نہیں، بلکہ فلسفہ، سائنس، تہذیب اور اخلاقی فکر کا مشترکہ نقطۂ آغاز ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں سائنسی تحقیق آگے بڑھتی گئی، انسان کے آغاز سے متعلق سوال ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ آج اکیسویں صدی میں، جب جینیات، حیاتیات اور بشریات غیر معمولی ترقی کر چکی ہیں، آدم و حوا یا پہلے انسان کا تصور نہ صرف مذہبی مباحث میں بلکہ علمی اور فکری حلقوں میں بھی دوبارہ زیرِ بحث ہے۔

مذہبی روایت انسان کی ابتدا کو کسی اندھے اتفاق یا محض حیاتیاتی حادثے کے طور پر نہیں دیکھتی۔ اسلام کے مطابق حضرت آدمؑ پہلے انسان اور پہلے نبی تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا، علم عطا کیا اور زمین پر خلافت کا منصب دیا۔ قرآن آدمؑ کی تخلیق کو محض جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری اور اخلاقی ذمہ داری کے آغاز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہاں انسان کو اختیار دیا جاتا ہے، لغزش کی گنجائش رکھی جاتی ہے، مگر ساتھ ہی توبہ، اصلاح اور اخلاقی ارتقا کا دروازہ بھی کھلا رکھا جاتا ہے۔ یہی پہلو اسلامی تصورِ انسان کو سادہ اساطیر سے الگ کر کے ایک زندہ اخلاقی بیانیہ بناتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...