نوآبادیاتی فہم کو چیلنج کرنے والا دانشور

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 18, 2026363 Views


مادھو گاڈگل اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ ہندوستانی ماحولیاتی فکر کے ان چند اہم دانشوروں میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف ماحولیات کے علمی پہلوؤں پر کام کیا بلکہ اسے عوامی شعور اور زمینی حقیقتوں سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی کے بانی اور سربراہ کے طور پر انہوں نے ماحولیات کو محض سرکاری ضابطوں اور تحقیقی مقالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کے روزمرہ تجربے کا حصہ بنایا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے ایک پوری صدی پر محیط نوآبادیاتی ماحولیاتی فہم کو کھلے طور پر چیلنج کیا۔

جنگلی حیات کے محفوظ علاقے، نیشنل پارک اور قدرتی تحفظ گاہیں بظاہر فطرت کے تحفظ کے لیے بنائی گئیں، مگر ان کا بنیادی تصور برطانوی سامراجی توسیع سے جڑا ہوا تھا۔ فطرت اور انسانی آبادی کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اس کے برخلاف، صدیوں تک مقامی آبادیوں نے فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاری۔ ان کی تہذیب، معیشت اور ثقافت میں فطرت سے علیحدگی کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ محفوظ جنگلات وہیں پائے جاتے ہیں جہاں مقامی آبادی گنجان ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ثقافت فطرت کے اندر سانس لیتی ہے، نہ کہ اس سے الگ ہو کر۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...