
دلچسپ بات یہ ہے کہ ناندیڑ ہو یا اکولہ، اویسی 2 بار ہیلی کاپٹر سے ان تمام جگہوں پر گئے اور میٹنگیں کیں، لیکن عمران پرتاپ گڑھی کی صرف ایک ریلی نے ایسا ماحول بنا دیا کہ پوری طاقت لگانے کے بعد بھی اسد الدین اویسی غفار اور ساجد پٹھان کو شکست نہیں دے سکے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے چیف اسدالدین اویسی جس طرح سے سیکولر پارٹی کے مسلم لیڈروں کو نشانہ بناتے ہیں اور انہیں شکست دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں، ایسے حالات میں عمران پرتاپ گڑھی نے جس ایمانداری سے فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ اس انتخابی نتائج کے بعد یقیناً مہاراشٹر کی سیاست میں عمران پرتاپ گڑھی کا قد کافی بڑا ہو گیا ہے۔






